خاموش قاتل کی واپسی؟ ہنٹا وائرس کے بڑھتے خطرات نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی

سیاحتی جہاز پر ہلاکتوں کے بعد عالمی طبی ماہرین کا الرٹ؛ چوہوں سے پھیلنے والے وائرس نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی
ویب ڈیسک
10 مئی 2026
دنیا ابھی حالیہ طبی بحرانوں کے اثرات سے سنبھل رہی تھی کہ “ہنٹا وائرس” کے اچانک پھیلاؤ نے عالمی سطح پر خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، خاص طور پر ایک بین الاقوامی سیاحتی بحری جہاز (Cruise Ship) پر اس وائرس کے باعث 3 اموات کی تصدیق کے بعد عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی ادارے الرٹ ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس خاموشی سے حملہ کرتا ہے اور اس کی شدت اسے ایک جان لیوا خطرہ بنا دیتی ہے، جس کے باعث سفری اور سیاحتی مراکز میں احتیاطی تدابیر سخت کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے؛ چوہوں کا فضلہ، تھوک اور پیشاب جب ہوا میں شامل ہو کر آلودہ ذرات کی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر پھیپھڑوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس وائرس کی ابتدائی علامات عام نزلہ زکام یا فلو سے ملتی جلتی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مریض اکثر اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، تاہم چند ہی دنوں میں یہ پھیپھڑوں کی شدید خرابی اور سانس لینے میں شدید دشواری کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو اکثر اوقات موت کا سبب بنتا ہے۔

انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ اب تک ہنٹا وائرس کے خلاف کوئی باقاعدہ ویکسین یا مخصوص دوا تیار نہیں کی جا سکی، اسی لیے ماہرینِ صحت صفائی ستھرائی پر زور دے رہے ہیں۔ کراچی جیسے گنجان آباد شہروں میں، جہاں کچرے کے ڈھیر اور ناقص نکاسیِ آب کے باعث چوہوں کی بہتات ہے، وہاں اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کہیں زیادہ ہے۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ شہری اپنے گھروں اور گوداموں میں چوہوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں اور کسی بھی قسم کی سانس کی تکلیف کی صورت میں فوری طبی معائنہ کروائیں کیونکہ بروقت بچاؤ ہی اس خاموش قاتل سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں