کراچی: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارتِ خزانہ نے 30 جولائی 2026 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی تازہ قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں نمایاں اضافہ جبکہ پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کی گئی ہے۔ نئے نرخوں کا اطلاق رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے جو آئندہ 24 گھنٹوں تک نافذ العمل رہیں گے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 24 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 390 روپے 62 پیسے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں صرف 75 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 335 روپے 6 پیسے مقرر کر دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافے کا سب سے زیادہ اثر ٹرانسپورٹ سیکٹر پر پڑتا ہے، کیونکہ مال برداری اور عوامی نقل و حمل کا بڑا حصہ ڈیزل پر منحصر ہے۔ اس اضافے کے نتیجے میں بسوں، ویگنوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا امکان ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عوام پر منتقل ہوگا۔
زرعی شعبہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہونے کا خدشہ رکھتا ہے، کیونکہ ٹیوب ویلز اور زرعی مشینری کی بڑی تعداد ڈیزل استعمال کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداواری لاگت بڑھنے اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کو عوامی سطح پر خاطر خواہ ریلیف نہیں سمجھا جا رہا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند پیسے کی کمی مہنگائی کے موجودہ طوفان میں کوئی خاص فرق پیدا نہیں کر سکتی، جبکہ ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں مجموعی مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا نظام عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے جڑا ہوا ہے، تاہم اس کے اثرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچتے ہیں، جس کے باعث عوام کو مسلسل مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔




