کراچی (پیر بخش نوناری) 8 جون 2026
کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پوسٹ گریجویٹ خاتون ڈاکٹر پر ہونے والے ہولناک تیزاب گردی کے واقعے کے بعد کراچی کی طبی برادری بھی سراپا احتجاج بن گئی ہے۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کے ڈاکٹروں نے آج او پی ڈی کمپلیکس میں ایک پرامن مگر پرزور احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کا مقصد بلوچستان کے ڈاکٹروں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرنا اور اس وحشیانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرنا تھا۔ احتجاج میں شامل ڈاکٹروں نے کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعے کو صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی توہین اور سیکیورٹی کی سنگین ناکامی قرار دیا ہے۔
احتجاجی مظاہرے کے شرکاء اور مطالبات
اس احتجاجی مظاہرے میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) کے مرکزی اور صوبائی عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء میں ڈاکٹر عمر سلطان (پیٹرن ان چیف، وائی ڈی اے پاکستان)، ڈاکٹر سجاد بگھیو (سینئر نائب صدر، وائی ڈی اے سندھ)، ڈاکٹر کنول سومرو (سینئر نائب صدر، وائی ڈی اے سندھ) سمیت جے پی ایم سی کی کابینہ اور سینکڑوں ڈاکٹرز شامل تھے۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر طبی عملے کے تحفظ اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کے مطالبات درج تھے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر ملک بھر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے ٹھوس سیکیورٹی اقدامات یقینی بنائیں۔
طبی برادری کا عزم: تشدد کسی صورت قبول نہیں
مظاہرے کے دوران ڈاکٹرز نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد انسانیت کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں اور ان پر تشدد کسی بھی معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹرز کو ہسپتالوں کے اندر ہی محفوظ ماحول فراہم نہیں کیا جا سکتا تو وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں کس طرح ادا کریں گے؟ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے مضبوط قانونی سازی کی جائے اور ایک ایسی حفاظتی حکمتِ عملی تشکیل دی جائے جو ہسپتالوں کو محفوظ قلعوں میں تبدیل کر دے۔

امن و امان اور مستقبل کا لائحہ عمل
احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں پر ہونے والے حملوں کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر حکومت نے اس واقعے کو سنجیدگی سے نہ لیا اور طبی برادری کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ جے پی ایم سی کی طبی برادری نے کوئٹہ میں متاثرہ ڈاکٹر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی شفاف جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ اصل محرکات سامنے لائے جا سکیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کا سدِباب ممکن ہو سکے۔




