میرپورخاص (بیورو رپورٹ) 8 جون 2026
میرپورخاص پریس کلب کے باہر آج ایک افسوسناک منظر دیکھنے میں آیا، جہاں پسند کی شادی کرنے والے ایک جوڑے نے اپنے ہی خاندان اور رشتہ داروں کی جانب سے دی جانے والی سنگین دھمکیوں کے خلاف انصاف کے لیے دہائی دی۔ گمبٹ کے رہائشی یاسر علی اور ان کی اہلیہ سکینہ خادم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی شادی تقریباً 12 ماہ قبل ہوئی تھی، جو شروع میں دونوں خاندانوں کی مرضی اور رضامندی سے انجام پائی تھی۔ تاہم اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے اور جوڑا اپنے ہی پیاروں کے ہاتھوں اپنی جان بچانے کے لیے حکامِ بالا سے تحفظ کا طلبگار ہے۔
زبردستی طلاق کا مطالبہ اور سنگین دھمکیاں
یاسر علی نے انتہائی اضطراب کے عالم میں بتایا کہ ان کے چچا ایاز علی، بابر علی اور خود ان کے سسر سمیت چند بااثر رشتہ دار انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں اور زبردستی طلاق لینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یاسر کا کہنا ہے کہ یہ افراد دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے سکینہ کو طلاق نہ دی تو انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔ اس جوڑے کے مطابق، ان کے درمیان کوئی ازدواجی تنازعہ موجود نہیں ہے اور وہ ایک پرسکون اور خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، لیکن خاندانی اختلافات کو مصنوعی طور پر ہوا دے کر ان کے گھر کو اجاڑنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔
اغوا کا جھوٹا مقدمہ اور قانونی پیچیدگیاں
جوڑے نے ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں دبانے کے لیے ان کے خلاف اغوا کا ایک جھوٹا مقدمہ بھی درج کروایا گیا ہے، حالانکہ سکینہ خادم نے عدالت اور پولیس کے سامنے کئی بار اس بات کا اقرار کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے شوہر کے ساتھ ہیں اور کسی نے انہیں اغوا نہیں کیا۔ یاسر علی کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمہ صرف انہیں ڈرانے، دھمکانے اور علیحدگی پر مجبور کرنے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ سکینہ خادم نے بھی اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت علیحدگی نہیں چاہتیں اور اپنے شوہر کے ساتھ پرامن زندگی گزارنا ان کا آئینی حق ہے۔
اعلیٰ حکام سے تحفظ اور انصاف کی اپیل
احتجاج کرنے والے جوڑے نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سمیت اعلیٰ پولیس حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور وہ ہر لمحہ خوف و ہراس کے سائے میں جی رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھمکیاں دینے والے افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں ریاست کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ کسی ڈر و خوف کے بغیر اپنی ازدواجی زندگی جاری رکھ سکیں۔ اس موقع پر جوڑے نے اس امید کا اظہار کیا کہ پولیس ان کے ساتھ انصاف کرے گی اور ان کے گھر کو ٹوٹنے سے بچائے گی۔




