کراچی (ویب ڈیسک) 8 جون 2026
منشیات فروشی اور قتل جیسے سنگین الزامات میں گرفتار انمول عرف ‘پنکی’ کے خلاف قانونی شکنجہ مزید سخت ہو گیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ملزمہ کی وائس ریکارڈنگ اور ڈیجیٹل شواہد کے فرانزک کے لیے پولیس کی درخواست پر وکیلِ سرکار کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ تفتیش کے دوران ملزمہ نے اپنے خلاف موجود وائس میسجز اور کال ریکارڈنگ میں اپنی آواز ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد اب ان ڈیجیٹل شواہد کی پنجاب فرانزک لیبارٹری سے تصدیق کرانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
آواز کا فرانزک کیوں ضروری؟
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے خلاف ثبوت کے طور پر موجود وائس نوٹس اور کال ریکارڈنگز قتل اور منشیات فروشی کے مقدمات میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ملزمہ کا یہ دعویٰ کہ “ریکارڈنگ میں میری آواز نہیں ہے” دراصل ایک قانونی چال ہے، جسے ناکام بنانے کے لیے پولیس نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں جیل میں ہی ملزمہ کی وائس ریکارڈنگ کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ اسے پنجاب لیبارٹری بھیجے گئے ڈیجیٹل شواہد سے میچ کیا جا سکے۔ عدالت نے اس درخواست پر کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے وکیلِ سرکار سے جواب طلب کر لیا ہے۔
سہولت کاروں کی ضمانت پر فیصلہ مؤخر، کروڑوں کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف
دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے انمول عرف پنکی کے مبینہ سہولت کاروں، سہیل الرحمن اور ذیشان الرحمن کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ 10 جون تک مؤخر کر دیا ہے۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عارف سیتائی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان کے بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز پکڑی گئی ہیں، حالانکہ ملزم ذیشان نے اپنی آمدنی محض 50 ہزار روپے ظاہر کی تھی۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کردہ واٹس ایپ چیٹ اور ویڈیو چیٹ کی فرانزک رپورٹس کا بھی جائزہ لیا ہے۔
جعلی کمپنی اور کروڑوں کا سیلری اکاؤنٹ
اس کیس کا ایک اور تاریک پہلو انمول عرف پنکی کے لاہور میں موجود ایک ‘جعلی سیلری اکاؤنٹ’ کا انکشاف ہے۔ رپورٹس کے مطابق نیو گارڈن لاہور برانچ میں موجود اس اکاؤنٹ میں 6 کروڑ 39 لاکھ 88 ہزار 912 روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئیں، جبکہ بینک میں جمع کرائے گئے دستاویزات مکمل طور پر جعلی نکلے۔ جب اینٹی نارکوٹکس فورس کی تفتیشی ٹیم نے مذکورہ پتے (9/10 چھٹہ پلازہ، چوبرجی) پر چھاپہ مارا تو وہاں کوئی کمپنی موجود ہی نہیں تھی۔ یہ انکشاف بینکنگ نظام کی سنگین کوتاہیوں اور ملی بھگت کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔
قتل کیس کا چالان اور پولیس کی مہلت
انمول عرف پنکی کے خلاف سٹی کورٹ میں جاری قتل کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے عبوری چالان پیش کرنے کے لیے عدالت سے مزید وقت مانگا، جس پر عدالت نے 9 جون تک مہلت دے دی۔ یہ مقدمہ لائنز ایریا کے رہائشی شیروز کی مدعیت میں بغدادی تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے اور جلد ہی مکمل چالان عدالت میں جمع کروا کر ملزمہ کو قرار واقعی سزا دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔




