جعلی لائسنس پر 16 سال تک مسافر طیارہ اڑانے والا کینیڈین پائلٹ گرفتار

ٹورنٹو (ویب ڈیسک) 12 جون 2026

کینیڈا میں ایک ہوشربا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ایک سابق ایئر کینیڈا پائلٹ کو اس الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے کہ وہ گزشتہ 16 برسوں سے مطلوبہ ‘ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس’ (ATPL) کے بغیر ملکی اور بین الاقوامی پروازیں اڑا رہا تھا۔

900 سے زائد پروازیں اور جعلی دستاویزات
تحقیقات کے مطابق، ملزم نے 2009 سے 2025 تک جعلی دستاویزات کا سہارا لیتے ہوئے بطور کپتان خدمات انجام دیں۔ اس طویل عرصے کے دوران اس نے 900 سے زائد کمرشل پروازیں آپریٹ کیں، جن میں ہزاروں مسافروں کی زندگیاں داؤ پر لگی رہی تھیں۔

انکشاف کیسے ہوا؟
حکام کا کہنا ہے کہ یہ سنگین معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب معمول کے ‘کریڈینشل ریویو’ کے دوران پائلٹ کے لائسنس ریکارڈ میں مشتبہ بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ شواہد سامنے آنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پائلٹ کو حراست میں لے لیا اور اس کے خلاف فراڈ، جعلسازی اور عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے متعدد مقدمات درج کر لیے ہیں۔

ایئر کینیڈا کا موقف
ایئر کینیڈا نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ الزامات سامنے آنے کے فوراً بعد پائلٹ کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا اور تمام ریکارڈ متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ایئر لائن انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پروازوں کے دوران مسافروں کی حفاظت متاثر نہیں ہوئی، کیونکہ پائلٹ نے اپنے کیریئر کے دوران تمام لازمی تربیتی مراحل اور مہارت کے ٹیسٹ (Skill Tests) کامیابی سے پاس کیے تھے۔

سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان
اس معاملے کی تفتیش کے لیے ‘پروجیکٹ آئیکارس’ کے نام سے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ تحقیقات کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ایک حساس ترین پیشے میں اتنی بڑی جعلسازی 16 سال تک ریگولیٹری اداروں اور ایئر لائن انتظامیہ کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی۔ اس واقعے نے ایئرلائن انڈسٹری میں لائسنسنگ کے تصدیقی عمل پر بھی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد کینیڈین ایوی ایشن حکام کی جانب سے پائلٹس کے کوائف کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں