اسلام آباد (عارف شاہد) 11 جون 2026
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے 17.5 ٹریلین روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ کل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ بجٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس ریلیف کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں مسودے کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کریں گے۔
نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ آمدن والے افراد کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔ ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے جس سے لاکھوں ملازمین مستفید ہو سکیں گے۔ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن پر 35 فیصد کی زیادہ سے زیادہ شرح برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ ایک کروڑ سے زائد کمانے والوں پر عائد سرچارج ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
بجٹ میں سولر پینلز اور اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجاویز واپس لے لی گئی ہیں جو عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے حکومت نے ماحول دوست پالیسی اپناتے ہوئے مقامی سطح پر تیار شدہ گاڑیوں کی موٹرز، بیٹریز اور پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کو کم کر کے صرف ایک فیصد تک لانے کی تجویز دی ہے۔ اس کے برعکس روایتی ایندھن پر چلنے والی بڑی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگانے اور درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے کا امکان ہے۔
نئے مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ دفاعی شعبے کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) کا حجم 1000 ارب روپے جبکہ چاروں صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2218 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا خدشہ ہے جس میں برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
حکومت نے ریونیو بڑھانے کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا اضافی ہدف مقرر کیا ہے جس کے لیے نئے ٹیکس اقدامات اور انفورسمنٹ پر توجہ دی جائے گی۔ نئے بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ بچوں کا فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل، چائے اور چینی جیسی درجنوں اشیائے خورونوش کو تیسرے شیڈول میں شامل کر کے ان کی پیکنگ پر پرچون قیمت پرنٹ کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔ اسٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس نظام اور پوائنٹ آف سیل سسٹم نہ لگانے والوں کے خلاف سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم لیوی سے ایک ہزار 727 ارب روپے جمع کرنے کا پلان بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
حکومت نے آئندہ مالی سال میں روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا عزم کیا ہے جس میں خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعتی شعبے میں 5 لاکھ اور زرعی شعبے میں 4 لاکھ ملازمتیں شامل ہیں۔ زراعت کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد، صنعتوں کا 4 فیصد، بڑی صنعتوں کا 4.5 فیصد اور خدمات کا 4.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ دفاع اور وزارتِ داخلہ کے سوا کوئی بھی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا تاکہ مالی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔




