ملازمین کیلیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبز؛ سالانہ 6 لاکھ روپے تک کی تنخواہ ٹیکس سے مکمل مستثنیٰ قرار!

اسلام آباد (بزنس رپورٹر) 23 جون 2026

وفاقی حکومت نے آئندہ مالیاتی سال کے لیے سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے کیلیے انکم ٹیکس کے نئے اور لچکدار سلیب متعارف کرا دیے ہیں۔ قومی اسمبلی کی جانب سے فنانس بل 2026 کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت ملک بھر کے تنخواہ دار ملازمین کے لیے مختلف آمدنی کے حساب سے ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے اس فنانس بل کے مطابق تمام نئی ٹیکس شرحیں یکم جولائی 2026 سے ملک بھر میں باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوں گی، جن کا براہِ راست اطلاق نجی و سرکاری ملازمین پر ہوگا۔

فنانس بل 2026 کے مطابق ملک کے کم آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، سالانہ 6 لاکھ روپے سے زائد اور 12 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد پر 1 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک کی آمدن پر ملازمین کو 6 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے ساتھ ساتھ 12 لاکھ سے زائد کی اضافی رقم پر 11 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

نئے ٹیکس نظام کے تحت سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک کمانے والے افراد پر 1 لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 20 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، واضح رہے کہ اس سلیب کے لیے پہلے ٹیکس کی شرح 23 فیصد تھی۔ اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 3 لاکھ 46 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ جبکہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 29 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

بلینڈڈ سلیبز کے مطابق، وہ افراد جن کی سالانہ آمدن 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان ہے، انہیں 9 لاکھ 76 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے ساتھ اضافی رقم پر 32 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ سب سے آخری اور اعلیٰ ترین سلیب کے تحت 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے اعلیٰ عہدیداروں اور بھاری تنخواہ دار افراد پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس عائد ہوگا اور 70 لاکھ سے اوپر کی تمام اضافی آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں