اسلام آباد (بزنس رپورٹڑ) 11 جون 2026
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں آٹو سیکٹر کے لیے اہم فیصلوں کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جس کے تحت درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائے جانے کا امکان ہے۔ اس اقدام کا مقصد درآمدات کو محدود کر کے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو تحفظ دینا اور مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس کی شرحیں برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکا جا سکے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے دی گئی متعدد ٹیکس مراعات اور چھوٹ 30 جون 2026 کو اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہیں۔ ان مراعات میں مقامی مینوفیکچررز کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے مکمل ناک ڈاؤن (CKD) کٹس کی درآمد پر حاصل سیلز ٹیکس استثنیٰ بھی شامل ہے۔ موجودہ پالیسی کے تحت 50 کلو واٹ آور یا اس سے کم بیٹری صلاحیت رکھنے والی چھوٹی گاڑیوں اور ایس یو ویز جبکہ 150 کلو واٹ آور تک بیٹری صلاحیت رکھنے والی لائٹ کمرشل گاڑیوں (LCVs) کے لیے یہ رعایت دستیاب تھی۔ اسی طرح مقامی سطح پر تیار یا اسمبل کی جانے والی چار پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی 30 جون 2026 تک صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد تھا۔
دوسری جانب مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر بھی فی الحال 8.5 فیصد سے 12.75 فیصد تک رعایتی سیلز ٹیکس نافذ العمل ہے جسے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں برقرار رکھنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ حکومت کا مقصد آٹو انڈسٹری کی ترقی، برآمدات کے فروغ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ پاکستان میں گرین ٹرانسپورٹ کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات اور اجزا کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں رعایت کو توسیع دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ مقامی ای وی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
پاکستان کی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا پس منظر دیکھیں تو جون 2020 میں وفاقی کابینہ نے اس پالیسی کی منظوری دی تھی جس کے تحت 2، 3 اور بھاری کمرشل گاڑیوں کے مخصوص پرزہ جات کی درآمد پر 5 سالہ رعایتی کسٹمز ڈیوٹی کی اجازت دی گئی تھی۔ بعد ازاں دسمبر 2021 میں ان مراعات کو مزید توسیع دی گئی اور لائٹ کمرشل گاڑیوں اور وینز کے لیے بھی اسی نوعیت کی سہولت فراہم کی گئی۔ کسٹمز (ترمیمی) بل 2026 کے تحت مکمل تیار شدہ الیکٹرک گاڑیوں (CBUs) کی درآمد پر دی گئی کسٹمز ڈیوٹی رعایت بھی 30 جون 2026 تک برقرار رکھی گئی ہے۔
یہ مراعات صرف ان گاڑیوں کے لیے دستیاب ہیں جنہیں انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے ای وی پالیسی 2020 کے تحت منظور اور تصدیق شدہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا حالیہ فیصلہ درآمدی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی اور مقامی صنعت کو تحفظ دینے کے لیے ایک متوازن قدم ثابت ہوگا۔ تاہم، آٹو سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز ان نئی ٹیکس تبدیلیوں کے اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پالیسی میں تبدیلی سے مقامی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ کے عمل کو نقصان نہ پہنچے۔ بجٹ دستاویزات کی منظوری کے بعد ان اقدامات کے حتمی اثرات کا تعین ممکن ہو سکے گا اور صارفین یہ جان سکیں گے کہ آنے والے وقت میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کیا ردوبدل ہوگا۔




