کراچی ویب ڈیسک
جون 18، 2026
بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کی نجی زندگی اور ازدواجی تعلقات کے حوالے سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر طلاق کی سنسنی خیز افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ان افواہوں نے جہاں مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں اب گووندا کی بیٹی ٹینا آہوجا نے اس پورے معاملے پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ والدین کی علیحدگی اور طلاق سے متعلق اڑنے والی بے بنیاد خبریں اور من گھڑت کہانیاں ان کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کرتی ہیں اور ان کے لیے گہری ذہنی پریشانی کا سبب بنتی ہیں۔
36 سالہ ٹینا آہوجا نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے دل کے ارمان اور درد کو بیاں کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے ابتدائی دور یعنی بچپن سے ہی اپنے والدین کے حوالے سے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں اور منفی خبریں سنتی آ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مشہور شخصیت کی اولاد ہونے کے ناطے انہیں ہمیشہ ہی لائم لائٹ میں رہنا پڑا، لیکن جب بات والدین کے رشتے پر جھوٹے الزامات کی ہو تو کوئی بھی انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ٹینا کا کہنا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر باتیں سراسر جھوٹی، بے بنیاد اور حقیقت سے دور ہوتی ہیں جنہیں صرف سستی شہرت کے لیے میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔
گووندا کی صاحبزادی نے ماضی اور حال کے میڈیا ٹرینڈز کا موازنہ کرتے ہوئے ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے اس نوعیت کی منفی اور ذاتی زندگی سے متعلق خبریں صرف ہفتہ وار رسائل، میگزین اور اخبارات کے اندرونی صفحات تک ہی محدود ہوا کرتی تھیں، لیکن پھر انٹرنیٹ کا دھماکہ خیز دور آیا اور اب یہی سنسنی خیز چیزیں انسٹاگرام، یوٹیوب، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہیں۔ ٹینا آہوجا کے مطابق ڈیجیٹل دور میں افواہوں کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ کسی بھی فنکار یا اس کے معصوم خاندان کے لیے ایسی مسلسل قیاس آرائیوں کا سامنا کرنا بالکل بھی آسان نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شوبز کی چمک دمک والی دنیا میں ہر دور میں میڈیا کی جانب سے ریٹنگ بڑھانے کے لیے نئی کہانیاں اور ڈرامے سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے عوامی زندگی اور پبلک ڈومین سے وابستہ افراد کو ہمیشہ مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ اب انہوں نے ان بے بنیاد افواہوں پر بار بار صفائیاں اور وضاحتیں دینے کے بجائے مکمل خاموش رہنے کو ہی اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لیا ہے اور وہ ان چیزوں کو نظرانداز کرنا سیکھ چکی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان ان ناموافق حالات سے نمٹنا اور اپنے خاندان کو ذہنی تناؤ سے محفوظ رکھنا سیکھ لیتا ہے، اور وہ بھی اب اپنی توجہ صرف مثبت چیزوں پر مرکوز رکھتی ہیں۔




