سوشل میڈیا انفلوینسر ڈاکٹر مدیحہ سے ایک کروڑ روپے کا فراڈ: عدالت نے ملزم کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا

کراچی (ویب ڈیسک) 11 جون 2026

کراچی میں سوشل میڈیا انفلوینسر اور معروف شخصیت ڈاکٹر مدیحہ سے پراپرٹی کے نام پر کروڑوں روپے کے مبینہ فراڈ کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ملزم احمد علی کی جانب سے دائر کردہ درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

سماعت کے دوران مدعیہ ڈاکٹر مدیحہ نے عدالت کے روبرو اپنے بیان میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم نے انہیں 120 گز کا ایک پلاٹ دکھایا اور سودے بازی کے دوران ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم ہتھیا لی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملزم صرف اسی پر نہیں رکا بلکہ اس نے دھوکہ دہی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جعلی دستاویزات بھی تیار کروائیں، اور یقین دہانی کروانے کے لیے ایک ایسے شخص سے بھی ملوایا جسے پلاٹ کا اصلی مالک ظاہر کیا گیا، حالانکہ حقیقت میں وہ شخص جعلی تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ مقدمہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور ملزم قانون سے بچنے کے لیے طویل عرصے تک فرار رہا۔ وکیل کے مطابق ملزم آٹھ ماہ تک روپوش رہا اور اس دوران اس کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں بھی مسترد ہو چکی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف تھانہ ساحل میں باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا اور تمام تر شواہد اس کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

عدالت نے دونوں جانب سے پیش کیے گئے دلائل اور شواہد کا بغور جائزہ لینے کے بعد ملزم احمد علی کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کیس کی بازگشت کافی عرصے سے سنائی دے رہی ہے اور ڈاکٹر مدیحہ کے فالوورز اور عوامی حلقوں کی جانب سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ چونکہ ملزم طویل عرصے تک مفرور رہا اور جعلی دستاویزات کا استعمال ثابت کرنے کے لیے ٹھوس مواد موجود ہے، اس لیے درخواستِ ضمانت منظور ہونے کے امکانات کم ہیں۔ عدالت کی جانب سے فیصلے کا اعلان جلد متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں