چین نے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا تاج امریکا سے چھین لیا، مکمل مقامی ٹیکنالوجی سے تیار!

بیجنگ (ویب ڈیسک) 23 جون 2026چین نے سپر کمپیوٹنگ کے میدان میں ایک بار پھر اپنی بالادستی ثابت کرتے ہوئے روایتی حریف امریکا سے دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز چھین لیا ہے۔ نئی عالمی درجہ بندی “ٹاپ 500” (Top500) کے مطابق، چین کا نیا سپر کمپیوٹر “لائن شائن” پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی اس شعبے میں امریکی اجارہ داری کا فی الحال خاتمہ ہو گیا ہے۔اس تاریخی کامیابی کو عالمی سطح پر اس لیے بھی غیر معمولی اور حیران کن سمجھا جا رہا ہے کیونکہ چین نے یہ جدید ترین مشین سخت امریکی پابندیوں کے باوجود مکمل طور پر اپنی مقامی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی ہے۔ چینی انجینئرز اور سائنسدانوں نے اپنے تیار کردہ چپس، سافٹ ویئر اور نیٹ ورکنگ سسٹمز کا استعمال کر کے دنیا کو دکھایا ہے کہ ملک جدید ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز کی دنیا میں خودکفالت کی منزل پا چکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اس سپر کمپیوٹر میں معروف چینی کمپنی ‘ہواوے’ (Huawei) کے تیار کردہ چپس اور مقامی نیٹ ورکنگ آلات استعمال کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ چین آخری مرتبہ سال 2017 میں دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا، تاہم اس وقت کی مشینوں میں کچھ غیر ملکی پرزہ جات اور ٹیکنالوجی شامل تھی۔ لیکن 2026 کی یہ نئی پیش رفت چین کی مکمل ٹیکنالوجیکل خودمختاری کی ایک بڑی علامت بن کر سامنے آئی ہے۔ سپر کمپیوٹرز عام کمپیوٹرز کے مقابلے میں لاکھوں گنا تیز کام کرتے ہیں جو ہزاروں ایڈوانسڈ پراسیسرز کی مدد سے انتہائی پیچیدہ سائنسی، خلائی، طبی، دفاعی اور صنعتی حساب کتاب (Calculations) سیکنڈوں میں انجام دیتے ہیں۔اس سے قبل، امریکا کا سپر کمپیوٹر “ایل کیپٹن” (El Capitan) دنیا کا سب سے طاقتور ترین کمپیوٹر تصور کیا جاتا تھا جو گزشتہ 18 ماہ سے اس فہرست میں سرفہرست تھا۔ تاہم، نئی درجہ بندی کے مطابق، چینی سپر کمپیوٹر ‘لائن شائن’ کی رفتار 2.2 ایکسافلاپس ($2.2\text{ Exaflops}$) تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی مشین ‘ایل کیپٹن’ 1.8 ایکسافلاپس ($1.8\text{ Exaflops}$) کی پروسیسنگ صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ تکنیکی پیش رفت امریکا اور چین کے درمیان جاری عالمی ‘ٹیک وار’ (Tech War) میں ایک بہت بڑا سنگِ میل ثابت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں