راولپنڈی (ویب ڈیسک) 29 جون 2026
پنجاب کے ضلع راولپنڈی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک 13 سالہ معصوم بچے کو اغوا کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کو دھر لیا ہے۔ نیو ٹاؤن پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جدید ٹیکنالوجی اور انسانی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بروئے کار لاتے ہوئے انتہائی مختصر وقت میں سنگدل ملزم کو حراست میں لے کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔
مقدمے کی مدعیہ (متاثرہ بچے کی والدہ) کی جانب سے پولیس کو دیے گئے تحریری بیان کے مطابق، گرفتار سفاک شخص نے ان کے 13 سالہ بیٹے کو گلی سے بہلا پھسلا کر اغوا کیا اور زبردستی اپنے نجی مکان پر لے گیا۔ جہاں ملزم نے معصوم بچے کو وحشیانہ جنسی تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بچے کے گھر واپس پہنچنے پر جب اس نے روتے ہوئے بپتا سنائی، تو والدین نے فوری طور پر انصاف کے لیے تھانہ نیو ٹاؤن سے رجوع کیا۔
پولیس کی تکنیکی کارروائی اور مؤقف:
نیو ٹاؤن پولیس حکام کے مطابق، واقعے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر مقدمہ درج کیا گیا اور تفتیشی ٹیم نے ٹیکنیکل و ہیومن انٹیلی جنس ذرائع کا استعمال کر کے ملزم کی لوکیشن کا پتا لگایا اور چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے متاثرہ بچے کا فوری طور پر سرکاری اسپتال سے طبی معائنہ (میڈیکل پراسیس) بھی کروا لیا ہے، جس کی ابتدائی رپورٹ حاصل کر لی گئی ہے۔
نیو ٹاؤن پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف تمام سائنسی اور دستاویزی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، اور زیرِ حراست شخص کو ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا تاکہ اسے عبرتناک سزا دلائی جا سکے۔ پولیس کا مزید کہنا تھا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف ہراسانی، جنسی استحصال اور ایسے سنگین جرائم کسی صورت ناقابلِ برداشت ہیں اور بچوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔




