آئی فون 18 خریداروں کے لیے بری خبر؟ ایپل نے قیمتوں میں بڑے اضافے کا اشارہ دے دیا

کراچی (ویب ڈیسک)19 جون 2026ء

دنیا بھر میں آئی فون کے شائقین جہاں ایک طرف آئی فون 18 سیریز کی رونمائی کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، وہیں ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے لانچ سے قبل ہی صارفین کو ایک بڑا جھٹکا دے دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹم کک نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ آنے والے آئی فونز کی قیمتیں ماضی کے تمام ماڈلز کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتی ہیں۔ آئی فون 18 سیریز کی لانچنگ میں اب محض تین ماہ باقی ہیں اور ایسے میں کمپنی کے اعلیٰ ترین عہدیدار کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کا یہ اشارہ صارفین کے لیے کافی مایوس کن ثابت ہو رہا ہے۔

ایپل کے سی ای او ٹم کک نے، جو کہ اسی سال ستمبر میں اپنے عہدے سے الگ ہونے والے ہیں، وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ الیکٹرانک پرزہ جات اور بالخصوص میموری چپس کی قیمتوں میں عالمی سطح پر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایپل اب تک پرزہ جات کی بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ خود برداشت کرتا رہا ہے تاکہ صارفین کو مہنگائی سے بچایا جا سکے، لیکن اب مارکیٹ کی صورتحال اتنی تیزی سے بدل چکی ہے کہ مستقبل میں قیمتوں کو پرانی سطح پر برقرار رکھنا اور اس بوجھ کو مزید سنبھالنا کمپنی کے لیے تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، قیمتوں میں اس ممکنہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کی صنعت میں آنے والا حالیہ انقلاب ہے۔ دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کی مانگ بڑھنے کی وجہ سے میموری چپس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے سپلائی چین پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ انڈسٹری تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ آئی فون 18 پرو میں استعمال ہونے والے میموری اور اسٹوریج کے پرزوں کی لاگت، پچھلے ماڈل یعنی آئی فون 17 پرو کے مقابلے میں 150 ڈالر تک بڑھ چکی ہے، جس کا براہِ راست اثر اب صارفین کی جیب پر پڑے گا۔

اگرچہ ٹم کک نے قیمتوں میں اضافے کی حتمی شرح کا اعلان نہیں کیا، لیکن مارکیٹ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ آئی فون 18 سیریز کی قیمتیں آئی فون 17 کے مقابلے میں 150 سے 200 ڈالر تک زیادہ ہو سکتی ہیں۔ ستمبر میں ٹم کک کی رخصتی کے فوراً بعد پیش کی جانے والی یہ نئی سیریز جہاں اپنے جدید ترین فیچرز کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنے گی، وہیں اب صارفین کو اس کی خریداری کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بڑی رقم خرچ کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، جو کہ مہنگے فونز کے شوقین افراد کے لیے ایک بڑا امتیحان ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں