پاکستان کا میرین بنکرنگ کے لیے نیا ڈیجیٹل ریگولیٹری فریم ورک: بندرگاہوں پر شفافیت اور معاشی ترقی کا نیا دور

اسلام آباد (راجا شاہد انجم) 11 جون 2026

وفاقی حکومت نے پاکستان کی سمندری تجارت اور بندرگاہی سرگرمیوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر کی بندرگاہوں پر ’میرین بنکرنگ‘ یعنی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کے عمل کو مکمل طور پر باقاعدہ، شفاف اور ڈیجیٹل نظام کے تحت لانے کے لیے ’کسٹمز رولز 2001‘ میں تاریخی ترامیم کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد پاکستان کی بندرگاہوں کو عالمی معیارات کے مطابق بنانا اور ایندھن کی فراہمی کے عمل میں درپیش مشکلات اور بے قاعدگیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔

کسٹمز میرین بنکرنگ رولز 2026 کا دائرہ کار
دستیاب دستاویزات کے مطابق، ان مجوزہ ترامیم کے تحت کسٹمز رولز میں ایک بالکل نیا باب ‘کسٹمز میرین بنکرنگ رولز 2026’ شامل کیا جائے گا۔ اس نئے نظام کا اطلاق فوری طور پر کراچی پورٹ، پورٹ قاسم، اور گوادر پورٹ کے ساتھ ساتھ ان کی بیرونی لنگرگاہوں (Anchorage) پر ہوگا۔ ایف بی آر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ ملک کی دیگر بندرگاہوں کو بھی اس نئے ریگولیٹری فریم ورک کے دائرہ کار میں شامل کر سکے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف قومی خزانے میں اضافے کی توقع ہے بلکہ سمندری تجارتی سرگرمیوں میں بھی بہتری آئے گی۔

پاکستان سنگل ونڈو اور ڈیجیٹل شفافیت
حکومت کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا یہ نظام مکمل طور پر ‘پاکستان سنگل ونڈو’ (PSW) کے ماتحت قائم ‘پورٹ کمیونٹی سسٹم’ (PCS) پر مبنی ہوگا۔ تمام بنکرنگ آپریشنز اب الیکٹرانک انداز میں انجام دیے جائیں گے، جس کا مطلب ہے کہ کاغذی کارروائی کے بجائے ہر قدم ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ ہوگا۔ اس کا مقصد بندرگاہی سرگرمیوں میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنا اور نگرانی کے عمل کو فول پروف بنانا ہے۔ نئے قواعد کے تحت صرف وہی کمپنیاں بنکرنگ کی خدمات فراہم کرنے کی اہل ہوں گی جو مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ سے لائسنس یافتہ ہوں گی اور کسٹمز کے ساتھ ‘آتھرائزڈ بنکر آپریٹر’ (ABO) کے طور پر رجسٹرڈ ہوں گی۔

آپریشنز کا تکنیکی معیار اور حفاظتی اقدامات
نئے ضوابط میں ایندھن بردار کشتیوں (بارجز) کے لیے سخت تکنیکی معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔ ہر آپریٹر کو اپنی بارجز کی رجسٹریشن، تکنیکی سرٹیفکیٹس، ماحولیاتی تحفظ کی دستاویزات، اور حفاظتی آلات کی تفصیلات کسٹمز کے نظام میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔ جہاز کو ایندھن فراہم کرنے سے قبل ایک باقاعدہ ‘پرمٹ ٹو ورک’ (PTW) کا حصول ضروری ہوگا، جبکہ فراہمی کے بعد ‘بنکر ڈلیوری نوٹ’ (BDN) جاری کیا جائے گا۔ اس نوٹ میں ایندھن کی مقدار، اس کا معیار اور سلفر کی شرح جیسی تمام اہم تکنیکی تفصیلات درج کرنا لازمی ہوگا تاکہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو معیاری ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

ایندھن کے معیار کی جانچ اور کسٹمز کے اختیارات
ایندھن کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے سیمپلنگ کا جدید طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ ہر آپریشن کے دوران ایندھن کے نمونے لیے جائیں گے جنہیں کم از کم بارہ ماہ تک کسٹمز، بنکر آپریٹر اور جہاز کے کپتان کے پاس بطور ثبوت محفوظ رکھا جائے گا۔ کسٹمز حکام کو ان قواعد کے تحت وسیع اختیارات دیے گئے ہیں، جن کے مطابق وہ کسی بھی وقت کسی رجسٹرڈ بارج کا معائنہ کرنے، ایندھن کے نمونے حاصل کرنے یا ریکارڈ طلب کرنے کے مجاز ہوں گے۔ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں بارج کو سیل کرنے کے ساتھ ساتھ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

محترمہ وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے جے پی ایم سی میں جدید ماڈیولر آپریشن تھیٹرز کا افتتاح کر دیا

بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ اور مستقبل کے امکانات
بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کے تحت ہونے والی بنکرنگ سرگرمیوں کے لیے بھی الگ سے طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس میں کارگو کی تفصیلات کو پورٹ کمیونٹی سسٹم میں ظاہر کرنا لازمی ہوگا۔ اسی طرح بانڈڈ اسٹوریج سہولیات سے ہونے والی بنکرنگ پہلے سے موجود قوانین کے تحت چلتی رہے گی۔ ایف بی آر نے اس مسودے پر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور فریقین سے پانچ روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کر لی ہیں۔ ان تجاویز کے جائزے کے بعد یہ قواعد حتمی شکل اختیار کر لیں گے، جس سے پاکستان کی سمندری بندرگاہوں پر ایک نیا اور شفاف معاشی دور شروع ہونے کی امید ہے۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کو عالمی شپنگ کے نقشے پر ایک اہم مقام دلائے گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں