قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس: 10 ہزار پاکستانی طلبا کی برطانیہ میں پناہ، انسانی اسمگلنگ کے نئے روٹس کا انکشاف

اسلام آباد (9 جون 2026) – قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بیرونِ ملک غیر قانونی امیگریشن کے حوالے سے انتہائی تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت ایم این اے راجہ خرم نواز نے کی، جس میں غیر قانونی امیگریشن، پاسپورٹ پالیسی اور فوجداری قوانین میں اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ محض اسٹوڈنٹ ویزا پر برطانیہ جانے والے 10 ہزار پاکستانیوں نے وہاں پہنچ کر سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا دی ہیں، جو کہ ملکی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

انسانی اسمگلنگ کے نئے مراکز اور ایف آئی اے کی رپورٹ
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈاکٹر عثمان انور نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے والے افراد کے باعث پاکستان کو عالمی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے اور یورپی یونین سمیت متعدد ممالک نے اس معاملے پر پاکستان سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق:

برطانیہ اور بیلاروس: 10 ہزار طلباء برطانیہ میں پناہ مانگ چکے ہیں، جبکہ 580 پاکستانی بیلاروس جا کر لاپتہ ہو گئے۔نئے روٹس: انسانی اسمگلنگ کے لیے ملائیشیا اور ازبکستان کے نئے روٹس کا انکشاف ہوا ہے۔روکے گئے افراد: 2025 کے دوران 39 ہزار 786 افراد کو دستاویزات نہ ہونے پر آف لوڈ کیا گیا، جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد کو اسٹاپ لسٹ اور انٹرپول الرٹس پر سفر سے روکا گیا۔آذربائیجان کا معاملہ: رواں برس 7 ہزار پاکستانی وزٹ ویزے پر آذربائیجان گئے اور واپس نہیں آئے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ کا مؤقف اور پاسپورٹ پالیسی
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اجلاس کو یقین دلایا کہ حکومت کی مؤثر حکمتِ عملی کے باعث غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد تک کمی آئی ہے، جس کی تصدیق امریکا اور یورپی ممالک نے بھی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گمشدہ پاسپورٹ کے حوالے سے نئی پالیسی تشکیل دی گئی ہے کیونکہ بار بار پاسپورٹ کا گم ہونا مشکوک تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر گمشدہ پاسپورٹ کے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جاتی ہیں، کیونکہ شناخت کی فروخت ایک بین الاقوامی جرم ہے جس کے تدارک کے لیے حکومت پرعزم ہے۔

فوجداری قوانین میں اصلاحات: 80 سالہ نظام میں تبدیلی ناگزیر
وفاقی وزیر قانون، اعظم نذیر تارڑ نے فوجداری قوانین میں مجوزہ اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں 80 سال پرانے قوانین کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی آر پی سی (CrPC) کے 55 قوانین میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں، جن پر گزشتہ تین برسوں سے کام جاری ہے۔ وزیر قانون نے تسلیم کیا کہ موجودہ نظام میں ملزم کے لیے تو سہولتیں موجود ہیں مگر مدعی کے لیے انصاف کا حصول مشکل ہے، اس لیے ایک ایسا جامع اصلاحاتی پیکج تیار کیا جا رہا ہے جو عدالتی نظام میں شفافیت لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات کا آن لائن اندراج اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس ریفارم پیکج کا اہم حصہ ہے، جس پر بجٹ اجلاس کے بعد تفصیلی بحث کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں