پشاور (ویب ڈیسک) 16 جون 2026
پشاور ہائیکورٹ میں ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے دائر درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود غیراخلاقی مواد کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اہم ریمارکس دیے۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
عدالت میں اہم نکات اور پی ٹی اے کا موقف
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر بابر شہزاد عمران نے موقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کی جانے والی بے ہودہ ویڈیوز معاشرتی اقدار کو متاثر کر رہی ہیں اور بگاڑ کا سبب بن رہی ہیں۔ اس پر پی ٹی اے (PTA) کے وکیل جہانزیب محسود نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مطلوبہ رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔
پی ٹی اے کے وکیل نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھم انتہائی پیچیدہ ہیں، جہاں صارف کی پسند کے مطابق مواد خودکار طریقے سے سامنے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاک پر صرف مخصوص اور انفرادی مواد کو بلاک کرنا تکنیکی اعتبار سے ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ تاہم، پی ٹی اے نے بتایا کہ کسی بھی شکایت کے موصول ہونے پر متعلقہ اکاؤنٹس کو فوری طور پر بلاک کر دیا جاتا ہے۔
عدالتی ریمارکس اور نئی اتھارٹی کا قیام
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ اگر حکومت کسی سیاسی پوسٹ کو فوری طور پر بلاک کر سکتی ہے تو پھر معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے والے مواد پر کیوں کارروائی نہیں کی جا سکتی؟ اس پر وکیل پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ اب سوشل میڈیا کے امور کو منظم کرنے کے لیے “سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی” قائم کر دی گئی ہے، جو اب ایسے معاملات کو دیکھنے کی مجاز ہے۔
عدالت کا فیصلہ
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نئی اتھارٹی کو بھی فریق بنایا جائے اور ان سے اس حوالے سے جواب طلب کیا جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کی استدعا منظور کر لی اور سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔




