راولپنڈی (ویب ڈیسک) 8 جون 2026
قانون کے محافظوں کے مرکز اور عدالتی حدود میں پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک اور شرمناک واقعے نے پورے شہر میں ہلچل مچا دی ہے۔ راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس کے اندر مرد و خواتین کی جانب سے نازیبا رقص اور حرکات و سکنات کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے، جس نے عدالتی وقار اور تقدس پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے منظرِ عام پر آتے ہی انتظامیہ متحرک ہو گئی اور پولیس نے سیشن کورٹ کے چوکیدار کی مدعیت میں تھانہ سول لائنز میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
واقعہ کہاں اور کیسے پیش آیا؟
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ شرمناک واقعہ جوڈیشل کمپلیکس کے اس مخصوص حصے میں پیش آیا جو وکلاء کے زیرِ استعمال رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں مرد اور خواتین کو انتہائی غیر مہذب انداز میں محفلِ رقص سجائے ہوئے اور نازیبا حرکات کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ عدالتی احاطے میں اس طرح کی سرگرمی کا ہونا جہاں ایک طرف قانون کی حکمرانی اور عدالتی تقدس کے منافی ہے، وہیں دوسری طرف شہریوں میں بھی شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پولیس کا ایکشن اور قانونی کارروائی
ایف آئی آر کے متن کے مطابق، پولیس کو اس واقعے کی اطلاع سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملی، جس کے فوری بعد کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں ملوث تمام مرد و خواتین کے چہرے انتہائی واضح ہیں، جس سے ملزمان کی شناخت کا عمل آسان ہو گیا ہے۔ مقدمہ درج کیے جانے کے بعد ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جو بھی اس غیر اخلاقی فعل میں ملوث ہے، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور عدالتی تقدس پامال کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔
عدالتی تقدس کی پامالی پر سوالات
اس واقعے نے وکلاء برادری اور انتظامیہ کے لیے بھی سوالیہ نشان پیدا کر دیے ہیں کہ آخر ایک حساس عدالتی عمارت میں اتنی بڑی خلاف ورزی کیسے ممکن ہوئی؟ وکلاء کے زیرِ استعمال حصے میں ہونے والی اس غیر اخلاقی حرکت نے عدالتی سیکیورٹی کے انتظامات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے بلکہ ان تمام ذمہ داروں کا بھی تعین کیا جائے جن کی غفلت یا ملی بھگت سے جوڈیشل کمپلیکس کو ایسے کاموں کا مرکز بنایا گیا۔ پولیس اس کیس کی مزید تحقیقات کر رہی ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی ملزمان کو میڈیا کے سامنے لایا جائے گا۔




