تلنگانہ: آم کھانے سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ، دوسری بیٹی بھی دم توڑ گئی

حیدرآباد، تلنگانہ (ویب ڈیسک) 12 جون 2026

بھارت کی ریاست تلنگانہ میں آم کھانے کے بعد پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے پورے خاندان کو سوگوار کر دیا ہے۔ چند روز قبل 17 سالہ لڑکی کی موت کے بعد اب اس کی 10 سالہ کم عمر بہن بھی اسپتال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے جان کی بازی ہار گئی ہے۔ اس سانحے نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے اور لوگ پھلوں کے استعمال میں احتیاط برتنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

واقعے کا پس منظر
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ وائجناتھ اور اندومتی نامی میاں بیوی کے گھر پیش آیا، جہاں ان کی رشتے دار رینوکا ملاقات کے لیے آئی تھیں۔ راستے میں انہوں نے بازار سے آم خریدے جنہیں گھر پہنچ کر والدین اور ان کی چاروں بیٹیوں نے مل کر کھایا۔ اتوار کی شام آم کھانے کے کچھ ہی دیر بعد خاندان کے تمام افراد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور انہیں شدید قے اور الٹیوں کی شکایت ہونے لگی۔

اموات اور طبی صورتحال
طبیعت زیادہ خراب ہونے پر تمام افراد کو فوری طور پر ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے باوجود 17 سالہ بھونیشوری جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی۔ اس کے بعد 10 سالہ سندھیا کی حالت بدستور نازک تھی، لیکن آج وہ بھی زندگی کی بازی ہار گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق خاندان کے دیگر افراد یعنی والدین اور باقی دو بیٹیوں کی حالت میں اب بہتری آ رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔

حکومتی تحقیقات اور خدشات
حکام کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ اموات آموں پر موجود کسی زہریلے کیمیکل (پیسٹی سائیڈز) کے باعث ہوئیں یا کوئی اور وجہ تھی۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہی ہے، بشمول ان آموں کی خریداری کے مقام کی جانچ پڑتال، جہاں سے یہ پھل لایا گیا تھا۔

بھارت میں یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی پھل کھانے کے بعد اموات کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن میں تربوز سمیت دیگر پھلوں پر موجود مضرِ صحت کیمیکلز کے باعث ہونے والی ہلاکتیں شامل ہیں۔ اس واقعے کے بعد عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ موسمِ گرما کے پھلوں کو استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح دھویا جائے اور اگر ممکن ہو تو انہیں پانی میں کچھ دیر بھگو کر رکھا جائے تاکہ ان پر موجود کیمیکلز کا اثر ختم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں