50 ماہر کاریگروں کی 1200 گھنٹوں کی محنت: روایتی بھارتی دستکاری اور جدید آرٹ کا شاہکار میٹ گالا کی زینت بن گیا
نیویارک (ویب ڈیسک):
نیویارک کے مشہورِ زمانہ میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں منعقد ہونے والے ‘میٹ گالا 2026’ نے ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ جہاں عالمی سطح پر فیشن، فن اور ثقافت کے بڑے نام اکٹھے ہوئے، وہیں اس سال بھارتی نمائندگی نے اپنی روایتی اور شاہانہ جھلک سے سب کو حیران کر دیا۔ اس بین الاقوامی تقریب میں سب سے زیادہ چرچے ایشا امبانی کے رہے، جنہوں نے ‘سونے کے تاروں’ سے تیار کردہ ایک ایسی ساڑھی زیب تن کی جس نے فیشن کے ناقدین اور مداحوں کو داد دینے پر مجبور کر دیا۔
ایک فن پارہ جس کی تیاری میں مہینوں لگے
اس سال میٹ گالا کا موضوع ’کوسٹیوم آرٹ‘ (Costume Art) رکھا گیا تھا، جس کا مقصد لباس کو محض فیشن کے بجائے ایک مکمل آرٹ کے طور پر پیش کرنا تھا۔ اسی تھیم کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایشا امبانی نے معروف بھارتی ڈیزائنر گورو گپتا کا تیار کردہ لباس منتخب کیا۔ نیتا مکیش امبانی کلچرل سینٹر کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، اس لباس کی تیاری کوئی معمولی کام نہیں تھا۔
اس خصوصی ساڑھی کو مکمل کرنے میں 50 سے زائد ماہر کاریگروں نے دن رات محنت کی اور تقریباً 1200 گھنٹوں کے طویل وقت کے بعد یہ شاہکار تیار ہوا۔ اس لباس کی خاص بات اس میں استعمال ہونے والے خالص سونے کے دھاگے اور ‘فریسکو آرٹ’ سے متاثرہ ڈیزائن تھا، جو قدیم بھارتی ثقافت اور جدید فیشن کے حسین امتزاج کو ظاہر کر رہا تھا۔
ثقافتی ورثے اور شاہانہ روایت کی عکاسی
ایشا امبانی کی یہ ساڑھی صرف ایک لباس نہیں تھی بلکہ بھارتی ہنرمندی اور صدیوں پرانی زری کے کام کی عالمی سطح پر عکاسی تھی۔ اپنے اس پرشکوہ روپ کو مزید نکھارنے کے لیے ایشا نے اپنی والدہ نیتا امبانی کے قیمتی اور تاریخی زیورات کا انتخاب کیا، جس نے ان کی شخصیت کو مزید باوقار بنا دیا۔ سوشل میڈیا پر اس لباس کو “صدی کا بہترین ثقافتی فیشن” قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارتی ستاروں کی کہکشاں
میٹ گالا 2026 محض فلمی ستاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس بار بھارت کی ممتاز کاروباری اور سماجی شخصیات نے بھی ریڈ کارپٹ پر اپنے جلوے بکھیرے۔ نامور فلم ساز کرن جوہر نے پہلی بار اس تقریب میں شرکت کی اور ان کے لباس میں بھارتی مصوری کا عکس واضح طور پر نظر آیا۔ ان کے علاوہ نتاشا پونا والا، اننیا برلا اور سدھا ریڈی نے بھی اپنے منفرد ملبوسات کے ذریعے بھارتی تہذیب، ٹیکنالوجی اور آرٹ کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
میٹ گالا کی یہ شام ثابت کرتی ہے کہ اب عالمی فیشن صرف مغربی ڈیزائنز تک محدود نہیں رہا، بلکہ مشرقی روایات اور خاص طور پر بھارتی دستکاری نے دنیا کے بڑے اسٹیجز پر اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ ایشا امبانی کا یہ ’گولڈن لک‘ آنے والے کئی سالوں تک فیشن کی تاریخ کا حصہ رہے گا۔






