منشیات کے ناسور کے خلاف سندھ کا فیصلہ کن اقدام

راجہ غلام رسول اوڈھو

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ جب نوجوان نسل تعلیم، شعور اور مثبت سرگرمیوں کی طرف گامزن ہو تو معاشرے ترقی کرتے ہیں، لیکن جب منشیات جیسا ناسور ان کی زندگیوں میں سرایت کر جائے تو نہ صرف افراد بلکہ پورا سماجی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے خلاف ہر سنجیدہ اور مؤثر اقدام دراصل آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔
سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا حالیہ اجلاس، جو چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ فریال تالپور کی زیر صدارت منعقد ہوا، اسی تناظر میں ایک اہم اور بروقت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار، وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول مکیش کمار چاؤلہ، وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال میمن، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو اور دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت اس بات کی عکاس تھی کہ حکومت سندھ منشیات کے مسئلے کو ایک سنجیدہ سماجی اور سیکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

اجلاس میں منشیات فروش انمول عرف پنکی کے کیس پر دی جانے والی تفصیلی بریفنگ نے ایک اہم حقیقت کو اجاگر کیا کہ ریاستی ادارے صرف ایک فرد کی گرفتاری پر اکتفا کرنے کے بجائے پورے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور سپلائی چین تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی وہ نقطہ نظر ہے جو منشیات کے خلاف کسی بھی کامیاب حکمت عملی کی بنیاد بنتا ہے۔ وقتی کامیابی کسی ملزم کی گرفتاری ہو سکتی ہے، لیکن پائیدار کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب جرائم کے پورے ڈھانچے کو ختم کیا جائے۔
فریال تالپور نے اجلاس کے دوران اس امر پر زور دیا کہ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کسی قسم کی رعایت یا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا یہ مؤقف کہ منشیات صرف افراد ہی نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر دیتی ہیں، درحقیقت ایک ایسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے جس سے کسی باشعور معاشرے کو غافل نہیں رہنا چاہیے۔ ان کی جانب سے تمام اداروں، والدین، اساتذہ اور منتخب نمائندوں کو ایک صفحے پر لانے کی ضرورت پر زور دینا بھی مسئلے کی سنگینی کا درست ادراک ظاہر کرتا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار کا یہ بیان بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ حکومت سندھ منشیات فروشوں، جرائم پیشہ عناصر اور نوجوان نسل کے مستقبل سے کھیلنے والے نیٹ ورکس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کسی بھی حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس کی ترجیحات سے لگایا جاتا ہے اور منشیات کے خلاف جاری اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ نوجوان نسل کو اس تباہ کن لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرنا چاہتی ہے۔

اجلاس میں اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے بحالی مراکز کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ بھی نہایت حوصلہ افزا تھی۔ کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں فعال بحالی مراکز اور مزید مراکز کے قیام کی تجاویز اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ نشے کا شکار افراد کو علاج، بحالی اور دوبارہ معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے مؤثر ادارہ جاتی سہولیات فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ فریال تالپور کی جانب سے مزید بحالی مراکز کے قیام اور موجودہ مراکز کو مضبوط بنانے کی ہدایت ایک مثبت اور دور اندیش قدم ہے۔
تعلیمی اداروں میں منشیات، گٹکا اور ماوا کے استعمال کی روک تھام کے لیے محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات بھی قابل توجہ ہیں۔ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ اور محکمہ تعلیم کے حکام نے آگاہی مہمات، طلبہ و اساتذہ کی تربیت اور محفوظ تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ منشیات کے خلاف سب سے مؤثر دفاعی لائن تعلیمی ادارے اور گھر کا ماحول ہوتے ہیں، جہاں شعور، تربیت اور آگاہی کے ذریعے نوجوانوں کو اس خطرے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

اس اجلاس کی ایک اہم خصوصیت مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور مشترکہ حکمت عملی پر زور دینا بھی تھا۔ سندھ پولیس، سی ٹی ڈی، اینٹی نارکوٹکس فورس، محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ منشیات جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل صرف ایک ادارے کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لیے مربوط اور مسلسل اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
بلاشبہ منشیات کے خلاف جنگ ایک طویل اور صبر آزما عمل ہے، لیکن حالیہ اجلاس سے یہ امید ضرور پیدا ہوئی ہے کہ حکومت سندھ اور متعلقہ ادارے اس چیلنج کا ادراک رکھتے ہیں اور اس کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔ اگر اسی عزم، نگرانی اور ادارہ جاتی تعاون کے ساتھ کارروائیاں جاری رہیں تو نہ صرف منشیات کے نیٹ ورکس کو کمزور کیا جا سکے گا بلکہ نوجوان نسل کو ایک محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل بھی فراہم کیا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں