کچے سے کراچی تک: امن کے خواب کو حقیقت بناتی سندھ پولیس

راجہ غلام رسول اوڈھو
سندھ ایک ایسے دوراہے سے گزر رہا ہے جہاں امن و امان، عوامی تحفظ، سرمایہ کاری کے تحفظ اور سماجی استحکام کے تقاضے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔ ایسے وقت میں سندھ حکومت، سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات نہ صرف حوصلہ افزا ہیں بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت بھی ہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔
حال ہی میں انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو اور چین کے قونصل جنرل کے درمیان ہونے والی ملاقات اس اعتماد کا مظہر تھی جو بین الاقوامی سطح پر سندھ پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے پیدا ہو رہا ہے۔ اس ملاقات میں ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز اور اے آئی جی آپریشنز بھی موجود تھے، جبکہ صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی قونصل جنرل کی جانب سے سندھ پولیس کی کارکردگی، چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر اطمینان کا اظہار اس بات کا اعتراف ہے کہ سندھ پولیس نے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اعتماد حاصل کیا ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا یہ مؤقف کہ “چینی باشندوں کی حفاظت سندھ پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے” محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی ماہرین، سرمایہ کاروں اور مختلف ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ افراد کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ پاک چین دوستی کی مضبوط روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سندھ پولیس کا یہ کردار نہ صرف قابل تحسین ہے بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کی ایک روشن مثال بھی ہے۔
دوسری جانب شکارپور میں جو پیش رفت سامنے آئی ہے، وہ سندھ میں امن کی بحالی کی جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایس ایس پی شکارپور محمد کلیم کی قیادت میں سندھ پولیس، سندھ رینجرز اور وفاقی انٹیلی جنس اداروں کی مشترکہ حکمت عملی کے نتیجے میں 60 خطرناک ڈاکوؤں کا سرنڈر کرنا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ ان افراد میں بدنام زمانہ ڈاکو بیلو تیغانی بھی شامل تھا جس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی، جبکہ دیگر مطلوب ملزمان میں علی گل تیغانی، عبدالرحمن تیغانی، منظور جعفری، سلطان بجارانی اور عبدالرحمٰن سبزروئی جیسے نام بھی شامل تھے۔

یہ پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ریاست کی رِٹ بتدریج مضبوط ہو رہی ہے اور وہ عناصر جو برسوں تک قانون کی گرفت سے دور رہے، اب قانون کے سامنے جواب دہ ہونے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ اس عمل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ سرنڈر کرنے والے افراد کو قانون کے مطابق عدالتوں کا سامنا کرنا ہوگا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ قانونی اور آئینی راستے کو بھی مقدم رکھتی ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بجا طور پر ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب اور ایس ایس پی شکارپور محمد کلیم کو اس شاندار کامیابی پر خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا یہ بیان کہ “کچے کے علاقوں میں امن و امان کے قیام اور جرائم کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی” دراصل حکومت کے اس عزم کی ترجمانی کرتا ہے کہ عوام کو جرائم کے خوف سے نجات دلانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
امن و امان کے حوالے سے سندھ پولیس کی سنجیدگی کا ایک اور اہم پہلو محرم الحرام کے لیے کیے جانے والے پیشگی انتظامات میں نظر آتا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی زیر صدارت کراچی پولیس آفس میں منعقدہ اجلاس اور ڈی آئی جی ویسٹ زون کراچی عرفان بلوچ کی سربراہی میں ہونے والی مشاورت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ سندھ پولیس صرف ردعمل پر یقین نہیں رکھتی بلکہ پیشگی منصوبہ بندی اور احتیاطی تدابیر کو بھی اپنی حکمت عملی کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔
علمائے کرام، جلوس و مجالس کے منتظمین، ٹریفک حکام اور سول انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس عوامی شراکت داری کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ انٹری پوائنٹس، سیکیورٹی کلیئرنس، ٹریفک مینجمنٹ، تجاوزات کے خاتمے اور دیگر انتظامی امور پر توجہ دراصل ایک محفوظ اور پرامن ماحول کی ضمانت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں امن صرف جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری سے قائم نہیں ہوتا بلکہ عوام کے اعتماد، سرمایہ کاروں کے اطمینان، مذہبی ہم آہنگی اور ریاستی اداروں کی مؤثر موجودگی سے فروغ پاتا ہے۔ سندھ میں حالیہ پیش رفت اسی جامع حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
آج جب ایک طرف بین الاقوامی سطح پر چینی قونصل جنرل سندھ پولیس کے اقدامات کو سراہ رہے ہیں، دوسری جانب خطرناک ڈاکو قانون کے سامنے سرنڈر کر رہے ہیں اور ساتھ ہی محرم الحرام جیسے حساس مواقع کے لیے بھرپور تیاری کی جا رہی ہے، تو یہ سب مل کر ایک امید افزا تصویر پیش کرتے ہیں۔
یہ تصویر ایک ایسے سندھ کی ہے جو امن کی طرف لوٹ رہا ہے، جہاں ریاستی ادارے متحرک ہیں، جہاں قانون کی بالادستی مضبوط ہو رہی ہے، اور جہاں عوامی تحفظ کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ترجیح بنایا جا رہا ہے۔
اگر یہی عزم، یہی تسلسل اور یہی مربوط حکمت عملی برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب سندھ نہ صرف امن و استحکام کی علامت بنے گا بلکہ ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی کے نئے باب بھی رقم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں