برگن اسٹاک سے اُبھرتا پاکستان: خاموش سفارت کاری نے تاریخ کا رخ موڑ دیا

کالم نگار: راجہ غلام رسول اوڈھو

کبھی کبھی تاریخ خاموشی سے لکھی جاتی ہے۔ نہ توپوں کی گھن گرج ہوتی ہے، نہ جنگی جہازوں کی پروازیں، نہ فاتح لشکروں کے جلوس نکلتے ہیں۔ صرف چند لوگ ایک میز کے گرد بیٹھتے ہیں، چند جملے بولے جاتے ہیں، چند ہاتھ ملتے ہیں اور دنیا کی سمت بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے پُرسکون مقام برگن اسٹاک میں ہونے والی حالیہ سرگرمیوں کو شاید آج ہر شخص پوری طرح نہ سمجھ سکے، لیکن آنے والے برسوں میں ممکن ہے یہی لمحات ایک بڑے تاریخی موڑ کے طور پر یاد کیے جائیں۔
ایک زمانہ تھا جب پاکستان کو عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کا محض سامع سمجھا جاتا تھا۔ فیصلے کہیں اور ہوتے تھے اور ان کے اثرات اسلام آباد تک پہنچتے تھے۔ مگر برگن اسٹاک کی تصویروں نے ایک مختلف منظر دکھایا۔ اس منظر میں پاکستان تماشائی نہیں تھا، میزبان بھی نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا کردار تھا جو متحارب قوتوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی نے اس پورے عمل کو ایک نئی اہمیت دی۔ دنیا کی سفارت کاری میں اتفاق سے کچھ نہیں ہوتا۔ جب ایران اور امریکا جیسے ممالک ایک ہی عمل کا حصہ بنتے ہیں تو اس کے پیچھے مہینوں بلکہ برسوں کی محنت ہوتی ہے۔ اعتماد پیدا کرنا آسان نہیں ہوتا، اور اعتماد ہی وہ سرمایہ ہے جو پاکستان کو اس مرحلے تک لے آیا۔یہ کوئی معمولی منظر نہیں تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نہ صرف پاکستانی قیادت سے گرمجوشی سے ملیں بلکہ پاکستان کے بارے میں محبت بھرے جذبات کا اظہار بھی کریں۔ عالمی سیاست میں الفاظ بھی سفارت کاری کا حصہ ہوتے ہیں۔ “وی لو پاکستان” شاید چند سیکنڈ کا جملہ تھا، لیکن اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جس کے بارے میں چند سال پہلے عالمی مباحث میں مختلف سوالات اٹھائے جاتے تھے، اور آج اسی پاکستان کو ایک ممکنہ امن ساز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنر کی موجودگی نے بھی واضح کر دیا کہ واشنگٹن اس عمل کو معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں سمجھ رہا۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی شمولیت نے یہ پیغام دیا کہ تہران بھی اس کوشش کو اہمیت دے رہا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے کس سے ہاتھ ملایا۔ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا اس وقت کس سمت جا رہی ہے؟ مشرقِ وسطیٰ کئی برسوں سے آگ اور خون کی کہانی بنا ہوا ہے۔ لبنان سے غزہ تک، شام سے یمن تک، ہر طرف کشیدگی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر کوئی کوشش جنگ کے امکانات کو کم کرنے، مذاکرات کے دروازے کھولنے اور اعتماد سازی کی راہیں ہموار کرنے کے لیے ہو رہی ہے تو اسے معمولی واقعہ نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری ہونے والے فریم ورک میں 60 روزہ روڈ میپ، اعلیٰ سطحی کمیٹی، تکنیکی مذاکرات، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور مختلف ورکنگ گروپس کے قیام جیسے نکات شامل ہیں۔ بظاہر یہ سفارتی اصطلاحات ہیں، لیکن درحقیقت یہ اس بڑے خواب کے ابتدائی خدوخال ہیں جس میں جنگ کی جگہ مذاکرات لے سکتے ہیں۔آبنائے ہرمز کا نام سنتے ہی دنیا کی معیشت چونک جاتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر وہاں استحکام آتا ہے تو صرف خطے کو فائدہ نہیں ہوتا بلکہ دنیا کی معیشت بھی سکھ کا سانس لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی خبروں کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں کمی کو بھی امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھا گیا۔

پاکستان کے لیے اس سے بھی بڑا پہلو معاشی ہے۔ اگر خطے میں امن آتا ہے، اگر ایران کے ساتھ اقتصادی روابط کی نئی راہیں کھلتی ہیں، اگر توانائی کے منصوبوں پر پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے ثمرات براہِ راست پاکستانی عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ برسوں سے توانائی کے بحران کا شکار ملک کے لیے یہ امکانات کسی نعمت سے کم نہیں۔برطانیہ کے وزیر ہمیش فاکنر اور سوئس وفاقی کونسل کے نائب صدر اگنازیو کاسیس کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا کسی ملک کی تعریف محض خوشامد میں نہیں کرتی۔ بین الاقوامی تعلقات میں تعریف بھی ایک سفارتی اشارہ ہوتی ہے، اور یہ اشارہ بتا رہا ہے کہ پاکستان کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

یہاں ایک اور حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ دنیا میں طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب صرف بڑی فوجیں اور بڑے خزانے ہی اثر و رسوخ کا ذریعہ نہیں رہے۔ آج وہ ملک زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے جو مخالف فریقوں کو ایک میز پر بٹھا سکے۔ جو جنگ کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو اعتماد پیدا کر سکے۔ اگر پاکستان اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے تو یہ اس کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہوگی۔یقیناً ابھی جشن منانے کا وقت نہیں۔ اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ تاریخ اعلانات سے نہیں، نتائج سے لکھی جاتی ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ مذاکرات کہاں تک پہنچتے ہیں، معاہدے کتنے مضبوط ثابت ہوتے ہیں اور خطے میں امن کی امید کس حد تک حقیقت بنتی ہے۔ لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ برگن اسٹاک نے پاکستان کو ایک نئی سفارتی شناخت عطا کی ہے۔ شاید اسی لیے آج جب دنیا کے مختلف دارالحکومتوں میں اس عمل پر گفتگو ہو رہی ہے تو اسلام آباد کا نام بھی اسی جملے میں لیا جا رہا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں۔ قوموں کی زندگی میں ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔

برگن اسٹاک کے خاموش پہاڑ شاید آنے والے برسوں میں اس دن کو یاد رکھیں گے جب دنیا کی نظریں ایک لمحے کے لیے پاکستان کی طرف اٹھیں، اور پاکستان نے انہیں مایوس نہیں کیا۔ اگر یہ سفر کامیابی سے آگے بڑھا تو ممکن ہے تاریخ لکھنے والے یہ نوٹ کریں کہ اکیسویں صدی کے ایک نازک موڑ پر پاکستان نے جنگ کے شور میں امن کی آواز بلند کرنے کی کوشش کی تھی اور دنیا میں اس سے بڑا کردار کوئی نہیں ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں