تھرپارکر (ویب ڈیسک) 10 جون 2026
تھرپارکر کے علاقے چھاچھرو میں بے زبان جانور پر ظلم کی ایک انتہائی دلخراش اور لرزہ خیز واردات سامنے آئی ہے، جہاں کھیت میں گھسنے کے معمولی جرم کی پاداش میں ایک 13 سالہ اونٹنی کو لوہے کی راڈوں کے ذریعے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ درندگی کے اس واقعے میں اونٹنی کی دونوں آنکھیں بری طرح متاثر ہوئیں، جن میں سے ایک مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس اور طبی امداد
واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس لے لیا اور ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا حکم دیا۔ سیکریٹری لائیو اسٹاک کاظم جتوئی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق، تشدد کا شکار اونٹنی کی حالت اب علاج کے بعد مستحکم ہے اور وہ کھڑے ہونے، چلنے اور کھانے پینے کے قابل ہو گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ اونٹنی کی بائیں آنکھ کا ویٹرنری سرجن سے آپریشن کروا کر اسے بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
ویٹرنری ٹیم کی نگرانی اور ملزمان کے خلاف عزم
محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے ایک خصوصی ویٹرنری ٹیم متاثرہ گاؤں میں تعینات کر دی گئی ہے جو 24 گھنٹے اونٹنی کی نگرانی کر رہی ہے۔ اونٹنی کو اینٹی بائیوٹکس، پین کلرز اور بہترین غذائی سپلیمنٹس فراہم کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں جانوروں پر ظلم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے زبان جانور پر ڈھایا گیا ظلم انتہائی افسوسناک ہے اور اس میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرتناک سزا دی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدِباب ہو سکے۔ ڈپٹی کمشنر تھرپارکر حلیم جاگیرانی نے بھی موقع پر پہنچ کر علاج کے عمل کا جائزہ لیا اور اونٹنی کے مالک سے ملاقات کر کے ہر ممکن حکومتی تعاون کا یقین دلایا۔




