پسند کی شادی کا خوفناک انجام: سفاک شوہر نے 18 سالہ مصباح پر تشدد کی انتہا کر دی، سر کے زخم میں نمک اور پتی بھر کر قتل کر دیا!

کراچی (کرائم رپورٹر) 10 جون 2026

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں محبت کا دعویٰ کرنے والے ایک ظالم شخص نے 18 سالہ لڑکی مصباح کی زندگی اجیرن بنا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مصباح نے محض چار ماہ قبل ملیر کے رہائشی شہریار بٹ نامی شخص کے ساتھ پسند کی شادی کی تھی، لیکن اسے اندازہ نہ تھا کہ وہ اپنی ہی غلطی سے ایک ایسے درندے کے چنگل میں پھنس گئی ہے جس نے اس سے پہلے بھی چار لڑکیوں کی زندگیاں برباد کی تھیں۔

محبت کا فریب اور درندگی کا آغاز
مقتولہ مصباح کے بھائی عثمان اور والدہ شہناز نے میڈیا کو بتایا کہ شہریار نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے مصباح کو اپنے جال میں پھنسایا۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی شہریار کے اصل چہرے سے نقاب ہٹ گیا۔ وہ اکثر گھر تبدیل کرتا رہا تاکہ کسی کی نظر میں نہ آئے، جبکہ اس کا اصل مقصد لڑکیوں کو لوٹنا تھا۔ شہریار مصباح پر اکثر تشدد کرتا اور اس سے جہیز اور موٹر سائیکل کا مطالبہ کرتا۔ ملزم اتنا سفاک تھا کہ وہ مصباح کے اہلخانہ کو واٹس ایپ پر دھمکیاں دیتا تھا کہ اگر انہوں نے شکایت کی تو وہ ان کے گھر میں گھس کر انہیں گولی مار دے گا۔

تشدد کی انتہا: زخم میں نمک اور پتی بھرنے کا انکشاف
مصباح کی والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ 7 مئی کو ایک نامعلوم شخص نے اطلاع دی کہ ان کی بیٹی زخمی حالت میں ملی ہے۔ جب مصباح گھر پہنچی تو اس کے جسم پر تشدد کے سنگین نشانات تھے۔ ماں کا کہنا ہے کہ مصباح نے اپنی آخری سانسوں میں بتایا کہ ظالم شوہر نے اس کے سر پر پیچ کس مارا، اور پھر زخموں کے درد کو مزید بڑھانے کے لیے اس کے زخم میں نمک اور چائے کی پتی بھر دی۔ یہ دردناک انکشاف سن کر انسانیت کانپ اٹھی۔ زخمی حالت میں مصباح کو نجی اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی اور 8 اور 9 جون کی درمیانی شب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔

پولیس کی تاخیر اور ملزم کی فراری
لواحقین کا کہنا ہے کہ جب وہ مصباح کو لے کر سرجانی ٹاؤن تھانے پہنچے تو پولیس نے ملیر کا کیس کہہ کر ان کی ایک نہ سنی، جس سے ملزم کو فرار ہونے کا موقع ملا۔ اب جبکہ مصباح کی موت ہو چکی ہے، تھانہ سرجانی ٹاؤن میں مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں شہریار بٹ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے شہر بھر میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔مصباح کی کہانی صرف ایک قتل نہیں بلکہ ایک معاشرتی سانحہ ہے۔ مقتولہ کے بھائی نے بتایا کہ مصباح نے پہلے ہی انہیں آگاہ کر دیا تھا کہ شہریار ایک پیشہ ور درندہ ہے جو اس سے پہلے بھی چار شادیوں کے بعد لڑکیوں کو لوٹ چکا ہے۔ مصباح نے تو اپنے خاندان کو بچانے کے لیے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے نادرا میں اپنے گھر والوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا تھا، مگر ظالم شوہر نے اسے زندہ نہیں چھوڑا۔ اب انصاف کے طلبگار لواحقین حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ کسی اور لڑکی کی زندگی اس درندے کی نظر نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں