جیکب آباد: مایوں میں بیٹھی دلہن کے قتل کیس میں اہم پیشرفت، سگا بھائی ہی قاتل نکلا

جیکب آباد (رپورٹ: محمد علی راجپوت) 16 جون 2026

جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کے علاقے میں شادی سے محض ایک دن قبل ہونے والے دلہن کے بہیمانہ قتل کے کیس میں پولیس نے اہم پیشرفت کرتے ہوئے مقتولہ کے بھائی کو گرفتار کر لیا ہے۔ چھ روز قبل پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور شادی کی خوشیاں ماتم میں بدل گئی تھیں۔

واقعہ کا پس منظر
تحصیل ٹھل کی سی سیکشن تھانے کی حدود میں واقع گاؤں گل خان بنگلانی میں ایک نوجوان لڑکی جنت خاتون کو اس وقت گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا جب وہ مایوں میں بیٹھی تھی۔ مقتولہ کا نکاح اگلے روز شکل بنگلانی نامی شخص کے ساتھ طے تھا، تاہم اس سے قبل ہی ملزمان نے گھر پر دھاوا بول کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ابتدائی تفتیش اور ملزم کی گرفتاری
ایس ایس پی جیکب آباد کے مطابق پولیس نے ایک سرچ آپریشن کے دوران مقتولہ کے بھائی کو گرفتار کر لیا ہے اور اس کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ملزم اپنی بہن کی شادی اپنے دوست سے کروانا چاہتا تھا، جبکہ رشتہ کہیں اور طے پانے پر وہ شدید ناراض تھا۔ خاندانی تنازع اور شادی سے انکار کی رنجش پر اس نے اپنے 5 دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مل کر بہن کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

لواحقین کا مؤقف
مقتولہ کی والدہ حسینہ خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی بیٹی جنت خاتون مایوں کی رسومات میں مصروف تھی کہ ملزم زاہد بنگلانی اپنے بھائیوں اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر گھر میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے ان کی بیٹی کی جان لے لی۔ مقتولہ کے بھائی نظر محمد بنگلانی کے مطابق زاہد بنگلانی زبردستی ان کی بہن سے شادی کرنے کا خواہشمند تھا، اور اسی ضد اور ضد پوری نہ ہونے کی رنجش پر یہ سنگین واردات کی گئی۔

پولیس کارروائی اور مطالبہ انصاف
پولیس نے مقتولہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے تعلقہ ہسپتال ٹھل منتقل کیا تھا۔ ایس ایس پی جیکب آباد کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد اب واقعے میں ملوث دیگر 4 ملزمان کی تلاش جاری ہے جنہیں جلد ہی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ مقتولہ کے ورثا نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے اور علاقے میں بڑھتی ہوئی اس طرح کی خونی وارداتوں کا تدارک ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں