فیفا ورلڈ کپ 2026: ایران کا میچ کے فوراً بعد امریکا چھوڑنے کی ہدایت پر شدید ردعمل

لاس اینجلس (اسپورٹس ڈیسک) 16 جون 2026

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان افتتاحی میچ 2-2 گول سے برابر رہنے کے بعد، ایرانی ٹیم انتظامیہ اور کھلاڑیوں نے ایونٹ کے انتظامات اور فیفا کے رویے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ٹیم انتظامیہ کا ماننا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے۔

ٹیم پر دباؤ اور حکام کی مشکلات
ایرانی ٹیم کے ہیڈ کوچ امیر قلعہ غلینوئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اس ورلڈ کپ کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ٹیم ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹیم کے کئی اہم عہدیدار، میڈیا نمائندے اور فٹ بال فیڈریشن کے حکام کو امریکا میں داخلے کی اجازت ہی نہیں دی گئی، جس سے ٹیم کا انتظامی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔

میچ کے بعد فوری انخلا کا تنازع
کوچ نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ میچ ختم ہونے کے فوراً بعد ہی کھلاڑیوں کو لاس اینجلس چھوڑنے کی ہدایت کر دی گئی۔ امیر قلعہ غلینوئی کے مطابق کھلاڑیوں کو میچ کے بعد ریکوری کے لیے مناسب وقت درکار تھا، تاہم انہیں فوری طور پر میکسیکو کے شہر تیخوانا واپس جانے کا حکم دیا گیا، جس سے کھلاڑیوں کی صحت اور کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

کپتان مہدی طارمی نے بھی انتظامات کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایک بڑے ایونٹ میں ٹیموں کو بنیادی سہولیات ملنی چاہئیں، مگر یہاں صورتحال بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تیخوانا سے لاس اینجلس کا ایک مختصر سفر امیگریشن مسائل اور انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے پانچ گھنٹے طویل ہو گیا، جس سے کھلاڑی شدید جسمانی تھکن کا شکار ہوئے۔

فیفا صدر کا دورہ اور حوصلہ افزائی
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو ایرانی ڈریسنگ روم پہنچے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا ان کی جدوجہد اور میدان میں دکھائے گئے عزم کو دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے ایرانی ٹیم کو تلقین کی کہ وہ مشکلات کے باوجود اپنی توجہ کھیل پر مرکوز رکھیں اور ایونٹ میں اپنی مہم جاری رکھیں۔دوسری جانب، ایرانی کوچ نے میکسیکو کے شہر تیخوانا کے عوام کی گرم جوشی اور مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہاں انہیں گھر جیسا ماحول ملا، جو اس مشکل وقت میں ان کے لیے ایک بڑا سہارا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں