لاہور (ویب ڈیسک) 18 جون 2026
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے سینٹرل کنٹریکٹس کا نیا اور انقلابی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس نئے نظام کا مقصد کھلاڑیوں کی کارکردگی اور فارمیٹ کے لحاظ سے ان کی مالی مراعات کو بہتر بنانا ہے۔ نئے مجوزہ نظام کے تحت کرکٹرز کو مختلف فارمیٹس کی بنیاد پر چار بنیادی ٹریکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پی سی بی کی جانب سے تیار کردہ مسودے کے مطابق کھلاڑیوں کی تقسیم درج ذیل ہے۔ ٹریک اے میں صرف ریڈ بال یا ٹیسٹ فارمیٹ کے ماہر کرکٹرز شامل ہوں گے، جن کے لیے ماہانہ 40 لاکھ روپے تک معاوضے کی تجویز ہے۔ ٹریک اے بی میں وہ کھلاڑی شامل ہوں گے جو ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے لیے ماہانہ 48 سے 50 لاکھ روپے کا معاوضہ تجویز کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی سالانہ آمدن 5 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔
اسی طرح ٹریک بی سی میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے ماہرین شامل ہوں گے، جنہیں ماہانہ 18 لاکھ روپے تک معاوضہ ملنے کا امکان ہے۔ ٹریک سی کیٹیگری صرف ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کے لیے مختص ہوگی، جن کے لیے ماہانہ 12 سے 15 لاکھ روپے کی تجویز ہے۔ جبکہ ٹریک ڈی میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی (NCA) اور ڈویلپمنٹ پروگرام سے وابستہ ایمرجنگ کھلاڑیوں کے لیے 10 لاکھ روپے ماہانہ معاوضے کی تجویز ہے۔
نئے کنٹریکٹ کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ کی رقم کے علاوہ میچ فیس بھی بڑھائی جا رہی ہے جس میں ٹیسٹ میچ فیس 15 لاکھ روپے، ون ڈے میچ فیس 7.5 لاکھ روپے اور ٹی ٹوئنٹی میچ فیس 5 لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہے۔ مزیر برآں، پی سی بی نے کارکردگی کو سراہنے کے لیے بونس کا بھی اعلان کیا ہے۔ آئی سی سی ایونٹ جیتنے کی صورت میں کھلاڑیوں کو میچ فیس کا 500 فیصد اور اے سی سی ایونٹ جیتنے پر 300 فیصد تک اضافی بونس مل سکے گا۔
نئے مسودے کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کو لیگز میں شرکت کی اجازت ہوگی، تاہم یہ اجازت ہر کھلاڑی کے ٹریک اور کیٹیگری کے مطابق مشروط ہوگی۔ پی سی بی کی جانب سے ان نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا حتمی اعلان جلد متوقع ہے، جس کے بعد قومی کرکٹرز کی نئی مراعات اور کیٹیگریز کا باضابطہ اطلاق شروع ہو جائے گا۔




