پی ایس ایل میں 8 ٹیمیں: پاکستان کرکٹ بورڈ کی آمدنی میں اربوں روپے کا تاریخی اضافہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 10 جون 2026

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کو پی ایس ایل 2026 کے مالیاتی گوشوارے پیش کر دیے ہیں، جس کے مطابق لیگ میں ٹیموں کی تعداد 8 کرنے کا فیصلہ بورڈ کے لیے انتہائی منافع بخش ثابت ہوا ہے۔ سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت اجلاس میں پی سی بی حکام نے بتایا کہ ٹیموں کی تعداد بڑھانے سے منافع میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔منافع میں ہوشربا اضافہ: ایک نظر میں،پی سی بی کی بریفنگ کے مطابق، پی ایس ایل 2026 میں مالیاتی کارکردگی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی رہی:پی ایس ایل 2026 کا مجموعی منافع: 7 ارب 54 کروڑ 98 لاکھ روپے سے زائد (قبل از ٹیکس)۔پی ایس ایل 2025 کا منافع: 2 ارب روپے۔پی ایس ایل 2024 کا منافع: 2 ارب 46 کروڑ روپے۔یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ لیگ کی توسیع نے بورڈ کی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

آمدنی کے ذرائع اور فرنچائزز کی فروخت
پی سی بی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آمدنی کے ذرائع میں میڈیا رائٹس، اسپانسرشپ اور فرنچائز فیس شامل ہیں۔ لیگ میں نئی ٹیموں کی شمولیت کے حوالے سے بتایا گیا کہ ساتویں ٹیم 1.75 ارب روپے اور آٹھویں ٹیم 1.85 ارب روپے میں فروخت ہوئی، جبکہ ملتان سلطان کی فرنچائز کی قیمت 2.45 ارب روپے رہی۔ فرنچائز فیس کی مد میں مجموعی طور پر 8 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد کی رقم وصول ہوئی۔بورڈ کا انتظامی ڈھانچہ اور اسٹیڈیم کی تعمیرات،اجلاس میں پی سی بی کے انتظامی امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی:ملازمین کی تنخواہیں: چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد کے مطابق، پی سی بی کے سینئر افسران کی ماہانہ تنخواہ 12 سے 24 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔اسٹیڈیمز کی تعمیر: ایک نئے کرکٹ اسٹیڈیم کی تیاری پر 12 سے 14 ارب روپے کی لاگت آتی ہے۔ کراچی کرکٹ اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش پر 5 ارب روپے خرچ ہوں گے، جبکہ اسلام آباد میں سی ڈی اے نیا اسٹیڈیم تعمیر کر رہا ہے۔نمائندگی کا مطالبہ: کمیٹی کی رکن سعدیہ عباسی نے بورڈ میں خواتین کی نمائندگی اور چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی شمولیت پر زور دیا، جس پر پی سی بی نے موقف اختیار کیا کہ اس کے لیے کابینہ کی منظوری درکار ہوگی۔پی سی بی کا یہ مالیاتی ماڈل اب تیزی سے خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں براڈکاسٹنگ رائٹس، گیٹ منی اور اسپانسرز سے حاصل ہونے والا 95 فیصد ریونیو ٹیموں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ 5 فیصد حصہ پی سی بی کے پاس جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں