تل ابیب (ویب ڈیسک) 17 جون 2026
اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اوہمر ٹشلر نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ 8 جون کو اسرائیل نے ایران پر ایک بڑے اور فیصلہ کن فضائی حملے کی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی تھیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت نے خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا لیا۔
آپریشن منسوخی کا پس منظر
اسرائیلی میڈیا ‘ٹائمز آف اسرائیل’ اور ‘وائی نیٹ’ کی رپورٹس کے مطابق، میجر جنرل اوہمر ٹشلر نے فضائیہ کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے نام لکھے گئے ایک خط میں بتایا کہ اسرائیلی لڑاکا طیارے ایران کے اندر سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ پائلٹس کو مشن کے لیے آخری بریفنگ دی جا رہی تھی اور تمام اسکواڈرن ٹیک آف کے لیے تیار تھے، مگر آپریشن شروع ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل اسے منسوخ کرنے کا حکم موصول ہوا۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان رابطہ
جنرل ٹشلر کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ہنگامی رابطہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم پر واضح کر دیا تھا کہ اگر اسرائیل نے اس مرحلے پر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ کیا، تو اسے امریکی عسکری یا سفارتی حمایت حاصل نہیں ہوگی اور اسرائیل کو تنہا نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان
اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ پہلے ہی ایران کے اندر درجنوں اہداف کو نشانہ بنا چکی تھی، جس سے ایرانی فضائی دفاعی نظام اور اہم تنصیبات کو کافی نقصان پہنچا تھا۔ تاہم، 8 جون کو طے پانے والا منصوبہ ایک ہمہ گیر حملے پر مشتمل تھا۔
امریکی ثالثی اور جنگ بندی کا معاہدہ
واضح رہے کہ اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ایک جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے، جس میں امریکی نائب صدر اور ایران کی جانب سے باقر قالیباف شریک ہوں گے۔
جنرل ٹشلر نے اپنے خط میں اسرائیلی فضائیہ کی پیشہ ورانہ تیاریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آپریشن آخری لمحات میں روک دیا گیا، لیکن اسرائیلی فضائیہ کسی بھی ممکنہ خطرے اور چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔




