امریکی صدر کی ذہنی اور جسمانی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے، ٹرمپ کی بھتیجی کا بڑا دعویٰ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) 23 جون 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے چچا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صدر کی جسمانی اور ذہنی صحت بتدریج اور تیزی سے خراب ہو رہی ہے، اور اس سنگین صورتحال کو اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میری ٹرمپ نے اپنے حالیہ ہفتہ وار نیوز لیٹر میں امریکی صدر کی صحت اور عمر سے متعلق جاری عالمی بحث پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ امریکی صدر کی ذہنی اور جسمانی حالت میں مسلسل ایسی منفی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں جو ایک عام انسان کو بھی صاف نظر آتی ہیں۔

میری ٹرمپ نے اپنے مضمون میں تفصیلی موقف اختیار کرتے ہوئے لکھا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ بعض عوامی مواقع پر بظاہر منطقی، متحرک اور بالکل معمول کے مطابق نظر آتے ہیں، تاہم ان کے روزمرہ کے رویے اور طرزِ عمل میں اب ایسی واضح علامات موجود ہیں جو گہرے ذہنی اور نفسیاتی مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے رات گئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کی جانے والی غصیلی پوسٹس، جارحانہ زبان اور بعض غیر معمولی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر اس وقت شدید نفسیاتی تنزلی اور دباؤ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت مسلسل سیاسی دباؤ اور اپنی عالمی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے گہرے احساس سے دوچار ہیں۔ میری ٹرمپ کے مطابق، امریکی صدر کی نفسیات میں سب سے بڑا خوف عوامی تذلیل، عدالتوں کا سامنا اور ناکامی کے تاثر سے جڑا ہوا ہے، جو انہیں مزید بدمزاج بنا رہا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے میری ٹرمپ کے ان تمام الزامات اور دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے سربراہ کے طور پر اپنی تمام تر آئینی ذمہ داریاں مکمل طور پر انجام دے رہے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں من گھڑت ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل بھی امریکی میڈیا اور مختلف عوامی سرویز میں صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی عمر، ذہنی صلاحیت اور جسمانی فٹنس کے حوالے سے کڑی بحث ہوتی رہی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس متعدد بار ان کے سرکاری طبی معائنے اور آفیشل میڈیکل رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے صدر کی صحت کو سو فیصد تسلی بخش قرار دے چکا ہے۔ دوسری طرف سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی عالمی سیاسی شخصیت کی صحت کے بارے میں کوئی بھی حتمی رائے صرف مستند ڈاکٹرز کے طبی معائنے کی بنیاد پر ہی قائم کی جا سکتی ہے، جبکہ خاندانی افراد کے ایسے بیانات اکثر ذاتی اور سیاسی اختلافات سے متاثر ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں