اطالوی وزیر اعظم جیورجیا میلونی نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب ایک متنازع اور تضحیک آمیز بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی تصویر کھینچوانے کے لیے کسی سے بھیک نہیں مانگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک دعویٰ کیا تھا کہ کینیڈا میں منعقدہ ایک عالمی سمٹ کے دوران اطالوی وزیر اعظم نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے شدید التجا کی تھی، جس پر جیورجیا میلونی نے اب کھل کر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
ان دعوؤں کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اطالوی وزیر اعظم نے بین الاقوامی سفارت کاری کے اصولوں کو یاد دلایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی رہنماؤں کے درمیان روابط باہمی احترام، وقار اور طے شدہ سفارتی آداب پر قائم ہوتے ہیں، نہ کہ سستی ذاتی تشہیر یا سوشل میڈیا پبلسٹی پر۔ ان کا یہ کرارا جواب ظاہر کرتا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری اور ذاتی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق، جیورجیا میلونی نے اس پورے معاملے پر گہری تشویش اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا ہے کہ اٹلی اور امریکہ کے مابین تعلقات انتہائی تاریخی اور دونوں ممالک کے اہم قومی مفادات پر مبنی ہیں۔ ان مائیکرو لیول کے سیاسی بیانات یا شخصیات کے درمیان ذاتی پسند و ناپسند کو دو بڑے ممالک کے سٹریٹجک تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں شخصیات کے دائرے تک محدود کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، یہ کشیدگی ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آئی ہے جب یورپی یونین اور امریکی قیادت کے درمیان متعدد عالمی اور علاقائی مسائل پر قریبی مکالمے اور اہم رابطے جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عوامی سطح پر اس نوعیت کے غیر سنجیدہ بیانات سفارتی حلقوں میں غیر ضروری حساسیت اور خلیج پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں صارفین کی اکثریت میلونی کے اس جرات مندانہ جواب کو سراہ رہی ہے۔




