برطانوی وزیر اعظم کے بعد لتھوانیا کی وزیر اعظم بھی اچانک مستعفی!

ولنیئس (ویب ڈیسک) 23 جون 2026

یورپی ملک لتھوانیا کے سیاسی منظرنامے سے اس وقت کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے، جہاں گزشتہ روز برطانوی وزیر اعظم کے اچانک مستعفی ہونے کے بعد آج لتھوانیا کی وزیر اعظم اینگا روگینن نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، لتھوانیا کی وزیر اعظم اینگا روگینن نے آج بروز منگل باقاعدہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے الگ ہونے کا اعلان کیا۔ اس اچانک فیصلے نے لتھوانیا سمیت پورے یورپی یونین کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

اپنی کابینہ کے آخری اور الوداعی اجلاس سے رقت آمیز خطاب کرتے ہوئے اینگا روگینن نے کہا کہ یہ ملک اور ان کی حکومت کے لیے ایک انتہائی مشکل دن ہے۔ انہوں نے حالیہ مہینوں میں حکومت کو درپیش شدید اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ہم نے ملکی مفاد کی خاطر اس قلیل عرصے کے دوران بہت سے مشکل اور کڑے فیصلے کیے ہیں، جن کا مقصد معیشت اور استحکام کو برقرار رکھنا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اینگا روگینن نے یہ بڑا فیصلہ اپنی ہی جماعت، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، کے اندر سے اٹھنے والے شدید اور بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے تحت کیا ہے۔ ان کا یہ استعفیٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومتی اتحاد جزوی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا تھا، اور حیران کن بات یہ ہے کہ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے ایک سال سے بھی کم وقت کے اندر ہی استعفیٰ دے دیا۔ یہ پیشرفت لتھوانیا کے سیاسی منظرنامے میں شدید عدم استحکام کو نمایاں کرتی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا ہاؤس “بلومبرگ نیوز” کی رپورٹ کے مطابق، اینگا روگینن کے مستعفی ہونے کے بعد اب لتھوانیا کے شہر جونوا کے 42 سالہ نوجوان اور متحرک میئر مینڈوجس سنکیویکس کے ملک کے نئے وزیر اعظم کے طور پر عہدہ سنبھالنے کی قوی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیر متوقع سیاسی تبدیلی نے لتھوانیا کو ایک نئے کٹھن سیاسی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے، اور نئے وزیر اعظم کے لیے ٹوٹے ہوئے حکومتی اتحاد کو دوبارہ جوڑنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں