بشکریہ :قراةالعین زینب
ہم جو انٹرنیٹ روزانہ استعمال کرتے ہیں، اسے “سرفس ویب” (Surface Web) یا “لائٹ ویب” کہا جاتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم دن رات انٹرنیٹ کا جو استعمال کرتے ہیں، وہ کل انٹرنیٹ کا صرف 4 سے 5 فیصد ہے؟ باقی کا 95 فیصد حصہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ آج کی تحریر میں ہم اسی چھپی ہوئی دنیا کا احوال بیان کریں گے جسے “ڈیپ ویب” اور “ڈارک ویب” کہا جاتا ہے۔
انٹرنیٹ کی ابتدا اور ڈیجیٹل نگرانی
ورلڈ وائڈ ویب کو ٹم برنرزلی نے 1989 میں ایجاد کیا اور 6 اگست 1991 کو اسے باقاعدہ منظرِ عام پر لایا گیا۔ اس ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک سکرین پر سمیٹ دیا۔ تاہم، ڈیوڈ چام نے اپنے مضمون “Security without identification” میں خبردار کیا تھا کہ ویب کا بے جا استعمال لوگوں کو ان کی معلومات کی نگرانی سے محروم کر دے گا۔ آج گوگل اور فیس بک سمیت دیگر پلیٹ فارمز آپ کے بارے میں اتنا کچھ جانتے ہیں کہ شاید آپ کے قریبی رشتہ دار بھی اتنا نہ جانتے ہوں۔ اسی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے امریکی نیوی کے ریسرچرز نے “Onion Routing” کا نظام متعارف کرایا، جسے بعد میں اوپن سورس کر دیا گیا، جس نے غیر ارادی طور پر “ڈارک ویب” کی بنیاد رکھی۔
انٹرنیٹ کے چار خفیہ درجے
انٹرنیٹ کو سمجھنے کے لیے ایک سمندری برفانی تودے (Iceberg) کی مثال بہترین ہے۔
1. سرفس ویب (Surface Web): یہ وہ انٹرنیٹ ہے جسے ہم عام براؤزرز جیسے گوگل پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ کل انٹرنیٹ کا صرف 5 فیصد ہے۔
2. ڈیپ ویب (Deep Web): یہ انٹرنیٹ کا وہ حصہ ہے جو عام پبلک کے لیے نہیں ہوتا۔ اس میں بینکوں کا ڈیٹا، اداروں کے نجی ریکارڈز اور دیگر حساس معلومات شامل ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو اپنی سم کی تفصیلات درکار ہوں تو وہ کمپنی کے پاس ڈیپ ویب کے ذریعے ہی محفوظ ہوتی ہیں۔ ملک بھر کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے آپ کراچی اپڈیٹس پر وزٹ کر سکتے ہیں۔
3. ڈارک ویب (Dark Web): یہ وہ خطرناک حصہ ہے جہاں تک رسائی بغیر خاص ایڈریس (جو .onion پر ختم ہوتا ہے) کے ممکن نہیں۔ یہ عام براؤزرز پر نہیں کھلتا، اس کے لیے ‘TOR’ براؤزر ضروری ہے۔ یہاں قانوناً وزٹ کرنا بھی جرم ہے۔ یہاں منشیات، اسلحہ اور ریڈ رومز (Red Rooms) جیسے ہولناک کام ہوتے ہیں۔ مشہور ویب سائٹ “سلک روڈ” بھی اسی کا حصہ تھی، جسے 2015 میں بند کیا گیا۔
4. مریاناز ویب (Marianas Web): یہ انٹرنیٹ کا سب سے گہرا حصہ ہے۔ یہاں بڑی طاقتوں (امریکا، اسرائیل وغیرہ) کے خفیہ ترین راز موجود ہیں۔ یہاں تک رسائی عام انسان تو کیا، عام حکومتوں کے بس میں بھی نہیں ہے۔
ڈارک ویب پر لین دین اور بٹ کوائن
ڈارک ویب پر ہونے والا تمام غیر قانونی کاروبار “بٹ کوائن” (Bitcoin) میں ہوتا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ٹریس کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اسی وجہ سے یہاں اربوں ڈالرز کا کالا دھن گردش کرتا ہے۔ اگر آپ ملکی و غیر ملکی معاشی حالات پر گہری نظر رکھنا چاہتے ہیں، تو کرنٹ افیئرز اور نیوز اپڈیٹس کے لیے ہماری ویب سائٹ دیکھتے رہیں۔

کیا اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے؟
آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا اسے بند کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ٹیکنالوجی ایک آلے کی طرح ہے۔ جیسے ایک چھری سبزی کاٹنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے اور کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی۔ انٹرنیٹ کا یہ نظام سیکورٹی کے لیے بنایا گیا تھا۔ لہٰذا حل پابندی نہیں، بلکہ اس کے غلط استعمال کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہے اور عوام میں شعور بیدار کرنا ہے کہ اس کا غلط استعمال آپ کی دنیا اور آخرت دونوں برباد کر سکتا ہے۔
مزید ایسی معلوماتی اور ٹیک سے جڑی خبروں کے لیے qaumkiawazpk.info کے ساتھ جڑے رہیں۔




