شانِ پاکستان کی دس سالہ تقریبات کے سلسلے میں “مل کر ترقی کریں” کے نعرے تلے شمولیت، برابری اور ہمہ گیر ترقی کے فروغ کے لئے نئی شراکت داریوں کا اعلان کیا گیا۔یہ تقریبات رواں سال کے آخر میں جشنِ شانِ پاکستان 2026 اِنکلوزیویٹی فیسٹیول پر اختتام پذیر ہوں گی۔
کراچی(بزنس رپورٹر) معروف پلیٹ فارم شانِ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص،ثقافتی ورثے اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والے معروف پلیٹ فارم شانِ پاکستان گزشتہ سال کے اواخر میں اپنی دس سالہ تقریبات کا آغازسیپما اکیڈمی کے قیام سے کیا تھا، جس کا مقصد بصارت سے محروم اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کو موسیقی کی معیاری اور مفت تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اسی سلسلے میں آج کراچی میں ایک پروقار ایوارڈز و اسناد تقسیم تقریب اور پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیاجس میں آئندہ کے منصوبوں کا اعلان بھی کیا گیا۔
تقریب کا آغاز ایک شاندار ریڈ کارپٹ استقبالئے سے ہوا۔ اس موقع پر سماجی، کاروباری، سفارتی، ثقافتی اور میڈیا حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور شانِ پاکستان و سیپما اکیڈمی کے وژن اور کاوشوں کو سراہا۔ تقریب میں شریک معزز مہمانوں میں ڈاکٹر رمیش کمار وکوانی، معروف ٹی وی میزبان ساحر لودھی، سماجی کارکن رزاق پردیسی، مملکتِ مراکش کے قونصل جنرل، ممتاز صنعتکار اور کاروباری رہنما اشتیاق بیگ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز ادارہ ایدا ریو کے بصارت سے محروم طلبہ کی جانب سے تلاوتِ کلامِ پاک، نعت رسولِ مقبول اور قومی ترانے کی پیشکش سے ہوا، جس نے تقریب کے آغاز ہی میں حاضرین کے دل جیت لئے۔ طلبہ کی پراعتماد کارکردگی اور ان کے فن نے شرکاءکو بے حد متاثر کیا اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
اس موقع پر معروف میڈیا اور کمیونیکیشن ماہر شہناز رمزی نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے سیپما اکیڈمی کے قیام، اس کے اغراض و مقاصد اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اکیڈمی ہما پردیسی کے والد مرحوم حاجی ذکر پردیسی کی یاد میں قائم کی گئی ہے ،جس کا بنیادی مقصد خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کو موسیقی کی تعلیم، تربیت اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اعتماد کے ساتھ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ انہوں نے مزید کہا ”شانِ پاکستان گزشتہ دس سالوں سے موسیقی، فیشن، فنونِ لطیفہ اور روایتی پاکستانی کھانوں کے ذریعے مختلف ثقافتوں اور اقوام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور آج یہ پلیٹ فارم پاکستان کی ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ایک مضبوط علامت بن چکا ہے۔“
شام کا سب سے یادگار مرحلہ ایوارڈز اور تعریفی اسناد کی تقسیم کی تقریب تھی جس کا مقصد مختلف اداروں سے وابستہ خصوصی نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ اس موقع پر عظیم قوال اور عالمی شہرت یافتہ موسیقار استاد نصرت فتح علی خان کے نام سے منسوب ”نصرت فتح علی خان ایوارڈ“ ادارہ ایدا ریو کے باصلاحیت طالب علم گل شیر کو ڈاکٹر رمیش کمار وکوانی نے پیش کیا۔ بعد ازاں ایدا ریو اور انسٹیٹیوٹ آف ہولسٹک ری ہیبیلیٹیشن اینڈ انکلوژن (IHRI) سے تعلق رکھنے والے دیگر طلبہ میں بھی تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔
ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیپما کے ساتھ شراکت داری پر خوشی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبوں اور تقریبات کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے بطورخاص تھر میں محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے پریم نگر کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
اس کے بعد رزاق پردیسی نے خطاب کیا، جن کے ادارے آئی ایچ آئی آر کے طلبہ بھی تقریب میں موجود تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی تعاون اور شراکت داری ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
تقریب سے مراکش کے اعزازی قونصل جنرل، اشتیاق بیگ، ساحر لودھی اور رمشا پردیسی نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر ہما حاجی ذکار پردیسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: “مجھے امید ہے کہ اپنی دس سالہ تقریبات کے دوران ہ ان طلبہ میں سے بعض کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم فراہم کر سکیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ قائم کی جانے والی شراکت داری ہمیں بہت آگے لے جائے گی۔ میں آپ سب سے اپیل کرتی ہوں کہ اس عظیم مقصد کے لئے ا فنڈز جمع کرنے میں ہمارا ساتھ دیں کیونکہ ہماری استطاعت محدود ہے لیکن مل کر ہم بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان شاءاللہ اس سال کی تقریبات کا اختتام ایک شاندار جشن شانِ پاکستان 2026 اِنکلوزیویٹی فیسٹیول پر ہوگا۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر فرد خواہ مالی معاونت کے ذریعے، اشیاءکی صورت میں یا اپنی نیک تمناوں اور حوصلہ افزائی کے ذریعے اس عظیم مقصد میں ہمارا ساتھ دے۔”
بعد ازاں سیپما کی جانب سے ایک مختصر مگر نہایت متاثر کن ٹیبلو اور آگاہی پر مبنی شمولیتی سرگرمی پیش کی گئی جسے ہما حاجی ذکار پردیسی نے تحریر، پروڈیوس اور ڈائریکٹ کیا تھا۔ ٹیبلو میں شریک بصارت سے محروم فنکاروں کے ملبوسات ہاوس آف براہتی کے فراہم کردہ تھے۔
تقریب کا اختتام خوشگوار ماحول، باہمی روابط اور ہائی ٹی کے ساتھ ہوا۔شرکاءنے سیپما اور شانِ پاکستان کی شمولیتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مستقبل کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔
کچھ شانِ پاکستان کے بارے میں:
شانِ پاکستان فاؤنڈیشن کا قیام مختلف ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو فروغ دینے، فنونِ لطیفہ، موسیقی، فیشن اور روایتی کھانوں کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لئے عمل میں لایا گیا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہ پلیٹ فارم متعدد قومی اور بین الاقوامی تقریبات کے کامیاب انعقاد کے ذریعے عالمی ثقافتی مکالمے، امن اور باہمی احترام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر چکا ہے۔
کچھ سیپما کے بارے میں:
شانِ پاکستان میوزک ایوارڈز کے انعقاد کا مقصد موسیقی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے فنکاروں کی حوصلہ افزائی، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف اور موسیقی کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران سیپما نے متعدد معروف موسیقاروں اور اداروں کے ساتھ مل کر ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو متعارف کرانے اور شمولیت کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
کچھ سیپما اکیڈمی کے بارے میں:
ہما حاجی ذکر پردیسی کی جانب سے قائم کردہ سیپما اکیڈمی خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کو موسیقی کی تعلیم، تربیت اور پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔ یہ ادارہ فن کے ذریعے خود اعتمادی، شمولیت اور سماجی بااختیاری کے فروغ کے لئے کوشاں ہے اور نوجوان موسیقاروں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔




