راولپنڈی: ہوٹل میں خاتون کے ساتھ مسلسل زیادتی، بچی کی پیدائش اور اغوا کا لرزہ خیز انکشاف

 راولپنڈی (کرائم رپورٹر)
تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں محنت مزدوری کرنے والی ایک بے بس خاتون کو ہوٹل میں محبوس بنا کر طویل عرصے تک زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ملزمان نے نہ صرف خاتون کو بلیک میل کیا بلکہ اس کی نومولود بچی کو بھی چھین کر اسے مزید زیادتی پر مجبور کیا۔

واقعے کا پس منظر اور ملزمان کا طریقہ واردات
متاثرہ خاتون نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ وہ اصل میں وہاڑی کی رہائشی ہے اور 9 سال قبل اپنے والد کے ساتھ راولپنڈی آئی تھی۔ وہ مسواک فروخت کر کے اپنا گزر بسر کرتی تھی اور پیرودھائی کے ‘ندیم ہوٹل’ میں رہائش پذیر تھی۔ والد کی واپسی کے بعد ہوٹل مینیجر سعید اور طیبہ عرف عالیہ نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ خاتون کے مطابق ملزمان اسے کمرے میں بند کر دیتے اور مختلف نامعلوم افراد کو وہاں بھیجتے جو زبردستی اس کے ساتھ زیادتی کرتے تھے۔ شور مچانے یا والد کو بتانے پر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔

بچی کی پیدائش اور اغوا
خاتون نے انکشاف کیا کہ مسلسل زیادتی کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی اور سول اسپتال راولپنڈی میں اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ جب وہ بچی کو لے کر ہوٹل پہنچی تو ملزم سعید اور طیبہ نے زبردستی بچی اس سے چھین لی۔ ملزمان نے دھمکی دی کہ اگر کسی کو بتایا تو ماں بیٹی دونوں کو قتل کر دیں گے۔ اس خوف کے باعث خاتون خاموش رہی، جبکہ ہوٹل مینیجر سعید نے بچی کی واپسی کے بدلے اسے دوبارہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور بچی دینے سے انکار کر دیا۔

جعلی دستاویزات اور متاثرہ خاتون کی شادی
خاتون کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اس کے نام سے ایک جعلی اسٹامپ پیپر بھی تیار کر رکھا تھا جس کا اسے علم نہیں تھا۔ تقریباً 7 ماہ قبل اس کا نکاح مجاہد نامی شخص سے ہوا، جس نے اسے حوصلہ دیا اور قانونی جنگ لڑنے پر آمادہ کیا۔ شوہر کی مدد سے اب خاتون نے انصاف کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔

پولیس کی کارروائی اور بچی کی بازیابی
سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی راول سعد ارشد اور ڈی ایس پی سٹی سید اظہر شاہ کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا اور مبینہ نائیکہ طیبہ عرف عالیہ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس ٹیم نے معصوم بچی کو بحفاظت بازیاب کروا کر ماں کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ مقدمے کے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں